|

وقتِ اشاعت :   April 15 – 2016

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے پٹرولیم جام کمال نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ نیلم جہلم ڈیم کا منصوبہ اگلے سال اگست تک مکمل کر لیا جائے گا منصوبے سے 969 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی منصوبے کی مجموعی لاگت404ارب روپے ہے ، منگلہ ڈیم سمیت مختلف ڈیمز کی اپ ریزنگ کی گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹر محمد داود خان اچکزئی ،سینیٹر نجمہ حمید اور سینیٹر احمد حسن کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ڈیموں کی ڈی سلٹنگ کے حوالے سے واپڈا نے 7سروے کئے تھے اور اس کے بارے میں غیر ملکی کمپنیوں نے بھی سٹڈی کی تھی جس کے بعد ان کمپنیوں نے بتایاکہ دی سلٹنگ کے اخرجات بہت زیادہ ہیں اور اس کا فائدہ نہیں ہوگا سینیٹر چوہدری تنویر کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایاکہ دیامر بھاشا ڈیم پر بھی کام ہو رہاہے سینیٹر محمد داود خان اچکزئی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایاکہ کراچی بار ایسوسی ایشن کواپریٹیو ہاؤسنگ نے بجلی کی فراہمی کے لئے درخواست دی تھی اور انہیں مئی 2017تک بجلی فراہم کر دی جائے گی سینیٹر نجمہ حمید کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت جام کمال نے کہاکہ نیلم جہلم پراجیکٹ اگست2017میں مکمل کر لیا جائے گا انہوں نے بتایاکہ اس پراجیکٹ میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی ہے سب سے پہلے اس کے مکمل ہونے کی تاریخ جولائی 2002تھی اس کے بعد جولائی 2008اور 2013کی تاریخ دی گئی تھی تاہم فنانشل مسائل اور دیگر مسائل کی وجہ سے اس کے مکمل ہونے میں تاخیر ہوئی ہے انہوں نے بتایاکہ موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو ہر حال میں مکمل کرنے کا تہانہوں نے بتایاکہ 2002میں یہ منصوبہ 84آرب روپے سے شروع ہوا تھااب تک اس منصوبے پر 162ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں تاہم منصوبے کی تکمیل تک اس پر مکمل اخراجات 404ارب روپے تک پہنچ جائیں گے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ وزارت پانی و بجلی نے ملک میں ڈیموں پر خرچ ہونے والے اعداد و شمار میں غلط بیانی کی ہے بعض منصوبوں کیلئے فنڈز جاری نہیں کئے گئے ہیں جبکہ ان پر اخراجات کئے گئے ہیں جس پر وزیر مملکت جام نے کہاکہ یہ درست ہے کہ تفصیلات میں غلطیاں ہیں انہوں نے بتایاکہ نولانگ ڈیم سمیت بلوچستان کے مختلف ڈیمزپر کام کے حوالے سے مسائل ہیں وزارت پانی و بجلی بلوچستان حکومت کی سفارش پر ترجیحی منصوبوں پر کام کرتی ہے جس میں نولانگ ڈیم کا منصوبہ بھی شامل ہے اس پر جلد ہی ترقیاتی کام کا اغاز کر دیا جائے گا سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور سینیٹر عثمان کاکڑ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہاکہ اگر اراکین کی خواہش ہے کہ ان سوالوں کو قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے جس پر چیرمین سینٹ نے سوالوں کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا ہے