کوئٹہ: بلوچستان میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی دستکاری ، کپڑوں اور چمڑے پر کی جانے والی کشیدہ کاری ،قالین اور دیگر مصنوعات نہ صرف ملکی بلکہ بین لااقوامی سطح پر بھی کافی مشہور ہیں ، یہ اشیاء صوبے کے دو ر دراز علاقوں میں غر بت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندان تیار کرتے ہیں اور حکام اس کام کو غر یب خاندانوں کے روز کا ر کا اہم وسیلہ قرار دیتے ہیں بلوچستان کی صوبائی حکومت نے صوبے کے غر یب خاندانوں کے نوجوانوں اور لڑکیوں کو اس طرح کے مختلف ہنر سکھانے کیلئے صوبے کے مختلف اضلاع میں 132 ہنر مند ادارے قائم کر لئے ہیں تاہم چھوٹی اور گھر یلو صنعتوں کے محکمے کی ڈائر یکٹر جنرل محتر مہ سائرہ عطاء نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ قومی اور بین الااقوامی سطح پر بلوچستان میں مقامی سطح پر تیار کئے جانے والے ان اشیاء کے مانگ میں اضافے اور صوبے کے بیروزگار نوجوان کو روزگار کا ایک وسیلہ فراہم کرنے کے لئے صوبائی حکومت نے نوجوانوں کو کشیدہ کاری، دستکاری ، چمڑے پر کشیدہ کاری ، قالین بانی ، اوردیگر مصنوعات تیار کرنے اور دوسرے مختلف ہنر سکھانے کیلئے مزید 20 ہنر مند ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں ہاتھ س بنے ہوئے اشیاء کی ڈیمانڈ تو ہمیشہ سے تھی وقت کے ساتھ ساتھ یہ انکر یز ہو ئی ہے ڈیکر یز نہیں ہوئی ہمارے پاس بہت اعلیٰ کوالٹی کا کام جو ہے وہ پایا جاتا ہے جس کو نہ صرف نیشنل بلکہ انٹر نیشنل لیول پے بھی پسند کیا جاتا ہے یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ ہم وہ ڈیمانڈز کو پوری کر سکیں ، کشیدہ کاری جو ہے ہماری وہ ایک بہت ہی ریچ کلچر ہمارے پاس موجود ہے بلوچستان بلوچ علاقوں کا اپنا اور پشتون علاقوں کی اپنی کشیدہ کاری اور بہت خوبصورت ہوئی ان میں، ہر ڈسٹر کٹ کا اپنا ایک ٹانکاہو تا ہے اُن کی اپنی ایک کلر اسکیم ہو تی ہے اپنی ایک کلر بائیڈنگ ہوتی ہے اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈسٹر یز ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں 153 ادارے قائم کئے ہیں جس میں ابھی کچھ ہمارے نئے سنٹرز بھی اپروز ہوئے ہیں اس بجٹ میں وہ بھی شامل ہیں ، قدرتی وسائل سے مالامال یہ صوبہ گزشتہ ایک عشرے سے زائد عر صے تک بدامنی اور شورش کا شکار ہا جس کی وجہ سے دستکاری ، کشیدہ کار ی اور دیگر گھر یلو چھوٹی صنعتوں کا شعبہ انتہائی متاثر ہو گیا تھا اور ہزار وں کی تعداد میں خواتین اور مر دوں نے دستکاری کا کام تر ک کر دیا تھا تاہم صوبائی حکومت کی کو ششوں کے بعد صوبے میں اس وقت 120 کے قر یبCarpet Centre 30, Handicrafts Development Centers 33, Leather Embroidery Centers 14, Knitting/ Tailoring Centers 34, Embroidery Centers 04, Cotton & Handloom Centers 07, Mizri Centers 05, Pottery Centers 03, Wool Collection Centers 02 یہ ہنر مند سنٹر دوبارہ فعال ہو گئے ہیں اور صوبائی حکومت نے ان کی تعداد میں اضافہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے ، فعال کئے جانے والے اداروں میں اس وقت 3735 مرد و خواتین مختلف ہنر سیکھ رہے ہیں ان طالب علموں کو صوبائی حکومت کی طرف سے 2000 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیاجاتا ہے ۔