کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اے پی سی میں منظور کی قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے گوادر کے عوام کو پانی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنایا جائے گوادر پورٹ کے اختیارات بلوچستان کو دیئے جائیں تمام پارلیمانی جماعتوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کریں گوادر کو بلوچستان کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے فوری طور پر قانونی سازی کی جائے وہاں انفراسٹرکچر سمیت جدید دانش گاہوں ‘ ٹیکنیکل اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے اسی طریقے سے ہزاروں سالوں پر محیط گوادر کے غیور بلوچ جو ماہی گیری کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں کے غیور بلوچوں کے تنگ دستی کے خاتمے کیلئے جی پی پورٹ جلد تعمیر کی جائے تاکہ گوادر کے بلوچ جو ماہی گیری کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا معاشی قتل روکا جاسکے ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کے پاس روزگار کا دوسرا ذریعہ ہیں ان کو روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے بلوچستان نیشنل پارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی تھی اس میں اقتصادی راہداری روٹ اور گوادر میگا پروجیکٹ کی کامیابی کا خواب تب ہی شرمندہ تعبیر ہو گا جب گوادر کے بلوچوں کے اہم مسائل کو حل کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اسی طریقے سے گوادر میں بلوچستان کے جتنے بھی بڑے میگا پروجیکٹس ہیں ان کا واک و اختیار بلوچستان کو دیا جائے جو ہمارا آئینی حق ہے جب قوموں کو ان کے ساحل وسائل پر واک و اختیار دی جائیگا تو ماضی کی محرومیوں اور قومی نابرابری اور ناانصافیوں کا خاتمہ کسی حد تک ممکن ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ پارٹی قومی جمہوری انداز میں سیاست کر رہی ہے اور بلوچ عوام کے حقوق کی ضامن سیاسی قوت ہے جو عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ اے پی سی شرکت کرانے والے سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اے پی سی پیش کی گئی قرارادوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے گوادر کے غیور عوام کو صاف پانی کی فراہمی ‘ روزگار سمیت معاشی مشکلات سے نکالنے میں سیاسی کردار ادا کریں بی این پی عوام کی حقیقی خدمت پر یقین رکھتی ہے ہماری جدوجہد انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی قومی مفادات کا حصول ہے اور یہ جدوجہد ہم ثابت قدمی اور سیاسی قومی جمہوری بنیادوں پر آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ تاریخ ‘ ثقافت اور زبان قومی بقاء متاثر نہ ہو ہم ترقی و خوشحالی کے ہرگز مخالف نہیں لیکن حقیقی ترقی وہ ہے جس کے ثمرات گوادر ‘ مکران اور بلوچستان کے عوام کی زندگیوں میں مثبت سماجی تبدیلیاں رونما کر سکے ۔