کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ بندوق کا راستہ ترک کر نے والوں میں کالعدم تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کے رشتہ دار بھی شامل ہیں عبدالنبی بنگلزئی ، انٹیلی جنس بیسڈکارروائی میں مارا گیا ہے اگر وہ زندہ ہے تو قومی دھارے میں شامل ہو جائے بصورت دیگر دوسری کا رروائی میں مارا جائیگا شہری دفاع کی تربیت حاصل کر نیوالی طالبات نے بہت اچھا کام کیا ہے کیونکہ کسی بھی نا گہا نی آفت میں شہری دفاع کی تربیت حاصل کرنیوالی طالبات اور دیگر لو گوں کا اہم کردار ہو تا ہے اس لئے یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنا چاہئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شہری دفاع کی تربیت حاصل کرنیوالی طالبات میں انعامات اور سرٹیفکیٹس کی تقسیم کے موقع پر گورنمنٹ گرلز کالج کواری روڈ میں منعقدہ تقریب سے اظہار خیال اور میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا اس موقع پر صوبائی سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر)اکبر حسین درانی ، ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس محمد احمد درانی،سول ڈیفنس کے ہدایت اللہ پر تو ڈائریکٹر کالجز غلام حسین سر پرہ، کالج کی پرنسپل سمیت دیگر بھی موجود تھے صوبائی وزیر داخلہ سر فرازبگٹی کا کہنا تھا کہ105 طالبات نے شہری دفاع کی تربیت حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طالبات بھی ملک کی تعمیر ترقی اور عوام کی خدمت کے جذبے اور محنت سے کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں یہ ایک اچھا اقدام ہے یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنا چاہئے حکومت اس حوالے سے تمام وسائل فراہم کرے گی اور کر رہی ہے شہری دفاع کا نا گہانی صورت میں بہت اہم کردار ہے انہوں نے کہا ہے کہ بندوق کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہونیوالوں میں کالعدم تنظیم کے سر براہ ڈاکٹر اللہ نذر کے رشتہ دار بھی شامل ہیں قلات آپریشن میں عبدالنبی بنگلزئی انٹیلی جنس بیسڈ کا رروائی میں 34 افراد سمیت مارا گیا ہے جن کی تصاویر اخبارات میں شائع ہو چکی ہے منظر عام پر آنیوالے ویڈیو انٹرویو کے حوالے سے اگر وہ زندہ ہے تو وہ قومی دھارے میں شامل ہو جائے بصورت دیگر وہ دوسرے آپریشن میں مارا جائیگا انہوں نے کہا ہے کہ قومی دھارے میں شامل ہونیوالوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اس حوالے سے ایک سسٹم بنایا گیا ہے کہ بندوق کا راستہ ترک کرکے واپس آنیوالوں کوخوش آمدید کہتے ہیں جس طرح خضدار میں گزشتہ روز ہتھیار ڈالے گئے یہ ایک قابل تحسین اقدام ہے ہتھیار ڈالنے والوں میں 2 کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہے ہماری کوشش ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کی بحالی اور روزگارکے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جائے تاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس محمد احمد درانی نے کہا ہے کہ دو ہفتوں پر مشتمل شہری دفاع کی تربیت سے طالبات میں کسی بھی نا گہانی صورت میں متاثرہ افراد کی خدمت کا جذبہ بڑھے گا اور ہماری کوشش ہے کہ اس جدید تربیت کے عمل کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے تاکہ طالبات اس تربیت کو حاصل کر سکے تقریب کے اختتام پر شہری دفاع کی تربیت حاصل کرنیوالی 105 طالبات میں سرٹیفکیٹس اور انعامات تقسیم کئے۔دریں اثناء بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفرازبگٹی نے کہاہے کہ آج بھی غریب بلوچ تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔۔میرے پاس کو ئی جناح پور کے نعرے مارتا ہوا آئے تو ویلکم نہیں کرونگا۔پاکستان کا حامی ہو نے سے نہیں روک سکتا۔بلوچستان کے جتنے وزراء اعلی رہے انہوں نے آرام کی زندگی گزاری اور بیرونی ممالک میں رہے ۔کراچی میں گدھا گٹرمیں گر جائے تو گھنٹوں نشریات دکھائی جاتی ہے۔بلوچستان کو نہیں دیکھا یا جا رہا۔کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا تھاکہ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو ناراض بلوچ کہا گہا۔ جب ہماری حکومت آئی تو کوئی پولیس والا ڈیوٹی کرنے کو تیار نہیں تھا۔آج بلوچستان پولیس 100 فیصد غیر سیاسی ہو چکی ہے۔ بلوچستان کے رفیوجیز کیلئے کمپس قائم ہیں۔اغواء برائے تاوان بلوچستان میں کاروبار بنا ہوا تھا۔لشکری جھنگوی کے ھیڈ اور جیکب آباد واقعہ میں ملوث صیف اللہ سمیت کتینے دہشتگرد مارے گئے۔ ناراض بلوچوں کو دھشتگرد سمجھتا تھا اور سمجھ تا رہوں گا۔ ناراض بلوچوں کے رہنمائی کرنے والے خود ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔علحدگی پسند بلوچون کو مذاکرات کے قبول کرنے کے باوجود قتل غارت جاری رکھی۔کراچی میں گدھا گٹرمیں گر جائے تو گھنٹوں نشریات دکھائی جاتی ہے۔بلوچستان کو نہیں دیکھا یا جا رہا۔جن کو ولین ہونہ چاہیے وہ ہیرو ہیں اور ہیرو ولین بنے ہوئے ہیں۔میرے پاس کو ئی جناح پور کے نعرے مارتا ہوا آئے تو ویلکم نہیں کرونگا۔پاکستان کا حامی ہو نے سے نہیں روک سکتا۔ملالا یوسیف زئی تعلیم حاصل کرنے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا میڈیا نے دکھایا پر جب بلوچستان میں اس ترز کے واقعہ پیش آیا تو ٹی وی پر نہیں دکھایا گیا۔ بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں ذاتی ہے غربت کی وجہ بلوچستانکے لوگ استعمال ہو رہے ہیں۔