کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ خون کے آخری قطرے تک مدارس کا تحفظ کرینگے مدارس دہشتگردی کے تربیت نہیں دیتے حکمرانوں کو ہر داڑھی اور پگڑی والا دہشتگرد نظر آتا ہے لیکن جمعیت علماء اسلام کسی بھی ایسے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دینگے جس کے عزائم سے مدارس کو بدنام کیا جا سکے جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات رونما اور دہشتگرد پکڑے گئے وہ انتہائی مہذب اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اسلام کے نام پر قائم ہونیوالے ملک میں امریکہ ومغرب کے ایماء پر داڑھی پگڑی والے اور دینی مدارس کے طلباء کے خلا ف بے بنیاد پروپیگنڈے کر کے انہیں دہشتگرد ثابت کر نے کی سازش ہو رہی ہے جو کسی بھی صورت نیک شگون نہیں اوراس کے نتائج بھی خطرناک برآمد ہونگے ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں مولانا محمد خان شیرانی،اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع، سینیٹر حفیظ حمداللہ اور دیگر مقررین نے تحفظ قرآن کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں شامل قوم پرستوں نے عوام کو حقوق کے نام پر دھوکہ دیکر اقتدار حاصل کیا اب عوام کو چاہئے کہ ان مفاد پرست عناصر کو کسی بھی صورت موقع فراہم نہ کریں پاکستان ہماراملک ہے ہمیں اس بے انتہاء پیار و محبت اس کیخلاف کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا اسلامی ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے جس کیلئے مسلمانوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے بیرونی قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جمعیت ایک منظم جماعت آج کی کانفرنس پروپیگنڈا کرنے والوں کیخلاف ایک ریفرنڈم ثابت ہواانہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو درپیش مشکلات و چیلنجز کا سامنا متحد ہوئے بغیر ممکن نہیں ، 34 اسلامی ممالک کے اتحاد کا امریکہ کی جانب سے خیر مقدم خطرے سے خالی نہیں ، ایسے کسی بھی اتحادکو خوش آئند قرار نہیں دے سکتے جس کے پیچھے خون خرابہ اور سو سالہ جنگ نظر آتا ہو ، ملک کے موجودہ حکمران جماعت نے ہمیشہ اسلام سے متصادم قوانین نہ صرف بنائے ہیں بلکہ ان کی دفاع کی بھی کوششیں کی ہیں ، معلوم نہیں دنیا کے حالات سے لاعلم لوگوں کو فتوے دینے کی جلدی کیوں ہے یا تو لوگ دنیا کے حالات سے اپنے آپ کو باخبر رکھے یا پھر فتوے دینے میں جلد نہ کریں ، غیر مسلم اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اپنے مذہبی تہواروں پر شراب نوشی کے خلاف بل کی راہ میں مسلمان اراکین کا رکاوٹ بننا المیہ سے کم نہیں ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں میں صرف فرقے اور مذہب کے نام کو استعمال کرنے والوں کے کیسز کو فوجی عدالتوں میں بھیجنا عجیب ہے ، اس وقت اقتدار کا مسئلہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کی بقاء کی جنگ ہے ، پاکستان ہمیں پیارا ہے اسے نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ رعایت نہیں ہونی چاہیے تحفظ پاکستان کے قانون کے تحت ہر پاکستانی پیدائشی طور پر گناہ گار ہے جس پرالزام لگے وہ خود اس کی صفائی دیں اوراپنے آپ کوبے گناہ ثابت کریں تحفظ پاکستان قانون15گریڈ کے آفیسر کو یہ اختیار دیتاہے کہ وہ کسی بھی مشکوک شخص کو سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں شوٹ کرنے کاحکم دے سکتا ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے ایسا نہیں کریں گے تو ہمارے حالات بھی درست نہیں ہوں گے اسلام کا ایجنڈا عالمی ہے جو لوگ کلمہ پر ایمان لا کر اسلامی رشتے میں ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں ان کے سامنے قومیت ، لسانیت اور دیگر بنیادوں پر تضادات کوئی معنی نہیں رکھتی اسلام گفتار اور کردار کا نام ہے کسی بھی جماعت کے لیڈر شپ کیلئے اعلیٰ تربیت یافتہ ہونا عملیت ، اخلاقیت ، فنایت اور قوت استدلال جیسی خاصیتو ں کا حامل ہونا ہوگا انہوں نے 34 ممالک کے اتحادپر تنقید کی اور کہاکہ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی ممالک کا اتحاد بنانے کی کوشش کی تو نہ صرف انہیں تختہ دار پر لٹکایا گیا بلکہ اسلامی کانفرنس میں شرکت کرنے والے ایک ایک رہنماء کو چن چن کر ختم کردیا گیا انہوں نے کہا کہ ہم ایسے اسلامی اتحاد کی کسی صورت خیر مقدم نہیں کرسکتے جس کے پس پشت سو سالہ جنگ اورخون خرابہ نظر آتا ہو