کرپال سنگھ — فوٹو : بشکریہ دکن کرونیکل
یاد رہے کہ کرپال سنگھ کو 29 فروری 1992 کو پاکستان میں داخل ہوتے وقت گرفتار کیا گیا تھا، انھیں 1991 میں فیصل آباد کے ریلوے اسٹیشن میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث قرار دے کر پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے انھیں بم دھماکے کے الزامات سے تو بری کردیا لیکن ان کی سزائے موت برقرار رکھی.
کوٹ لکھپت جیل میں قید سنگھ کو رواں ماہ 11 اپریل کو سینے میں درد کی شکایت پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں بعدازاں ان کا انتقال ہوگیا.
پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ کرپال سنگھ کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی.
یاد رہے کہ اس سے قبل 2013 میں سزائے موت کے قیدی ہندوستانی سربجیت سنگھ پر کوٹ لکھپت جیل میں 2 دیگر قیدیوں نے حملہ کیا تھا، جو بعدازاں جیل میں دوران علاج ہلاک ہو گیا تھا۔
کرپال سنگھ کی ہلاکت کے بعد ان کی بہن جاگیر کور نے پاک- ہندوستان سرحد اٹاری واہگہ کی ایک چوکی پر اپنے بھائی کی موت کے خلاف احتجاج کیا تھا، انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کرپال سنگھ کو بھی سربجیت سنگھ کی طرح قتل کیا گیا ہے اور پاکستانی جیل حکام اس کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔
ہندوستانی جاسوس کا ‘دل اور جگر’ غائب ہونے کا الزام
![]()
وقتِ اشاعت : April 20 – 2016
کرپال سنگھ — فوٹو : بشکریہ دکن کرونیکل
یاد رہے کہ کرپال سنگھ کو 29 فروری 1992 کو پاکستان میں داخل ہوتے وقت گرفتار کیا گیا تھا، انھیں 1991 میں فیصل آباد کے ریلوے اسٹیشن میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث قرار دے کر پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے انھیں بم دھماکے کے الزامات سے تو بری کردیا لیکن ان کی سزائے موت برقرار رکھی.
کوٹ لکھپت جیل میں قید سنگھ کو رواں ماہ 11 اپریل کو سینے میں درد کی شکایت پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں بعدازاں ان کا انتقال ہوگیا.
پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ کرپال سنگھ کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی.
یاد رہے کہ اس سے قبل 2013 میں سزائے موت کے قیدی ہندوستانی سربجیت سنگھ پر کوٹ لکھپت جیل میں 2 دیگر قیدیوں نے حملہ کیا تھا، جو بعدازاں جیل میں دوران علاج ہلاک ہو گیا تھا۔
کرپال سنگھ کی ہلاکت کے بعد ان کی بہن جاگیر کور نے پاک- ہندوستان سرحد اٹاری واہگہ کی ایک چوکی پر اپنے بھائی کی موت کے خلاف احتجاج کیا تھا، انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کرپال سنگھ کو بھی سربجیت سنگھ کی طرح قتل کیا گیا ہے اور پاکستانی جیل حکام اس کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔