اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ملک بھر کے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے سے متعلق کیس میں بلوچستان حکومت کو بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سے متعلق قانون بنانے کے لیے دوہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ صوبائی حکومت دو ہفتوں میں قانون بنائے یا آرڈینس کے تحت اختیارات دے ورنہ عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی جبکہ عدالت نے اختیارات کی منتقلی کا عمل مکمل ہونے تک لوکل گورنمنٹ فنڈز کے استعمال سے روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت مئی کے دوسرے ہفتہ تک ملتوی کردی ۔ بدھ کے روز کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ کارروائی شروع ہوئی تو چاروں صوبوں کنٹونمنٹ ، اور اسلام آباد کے وکلاء اور نمائدوں نے عدالت کو اختیارات کی منتقلی سے متعلق عملدرآمد بارے آگاہ کیا ، ایک درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کو ایک سال ہو گیا تاہم ابھی تک نہ اختیارات منتقل ہوئے اور نہ ہی فنڈز دیئے گئے اس پر حکومتی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بلوچستان اور اسلام آباد میں اختیارات کی منتقلی کا عمل شروع ہو گیا ہے ،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں قانون کے تحت اختیارات عوامی نمائندوں کو م منتقل کر دیے ہیں جبکہ پبنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ صوبے میں بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سے متعلق قانون سازی مکمل کر لی ہے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اختیارات منتقل کر دیئے جائیں گے ، بلوچستان حکومت کی جانب سے بلدیاتی نمائندو ں کو ایک سال گزرجانے کے باوجود اختیارات کی منتقل نہ ہونے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور انہیں دو ہفتوں میں نمائندوں کو اختیار ات منتقل کرنے کی مہلت دی ، بلوچستان حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مسودہ تیار ہے اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوا اس لیے بل ابھی تک منظور نہیں ہو سکا ، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بلوچستان حکومت کے وکیل کے دلائل پر ریماکس دیئے کہ جب تک پارلیمنٹ بل منظور نہ کرے بل کی کوئی حیثیت نہیں انتخابی عمل مکمل ہونے کے باوجود بلوچستان کے نمائندوں کو اختیار نہیں ملے ، ایک سال میں بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کیوں نہیں دیئے گئے ، جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس نہیں چل رہا تو آرڈیننس جاری کریں صوبائی حکومت کے پاس دو ہفتے ہیں ،اگر دو ہفتوں میں کچھ نہ ہوا تو عدالت اپنا اختیار استعمال کرے گی ۔ دریں اثنا عدالت نے اختیارات کی منتقلی کا عمل مکمل ہونے تک لوکل فنڈز کے استعمال سے روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت مئی کے دوسرے ہفتہ تک ملتوی کردی ۔