چمن: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیرمولانافیض محمد،مولاناعصمت اللہ،مولاناحافظ محمدیوسف،ملک سکندرخان ایڈوکیٹ اورسیدمحمدفضل آغانے جامعۃ الاسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن کے زیراہتمام” دستارفضیلت واستحکام مدارس کانفرنس “سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ علماء اپنے اتحاد کے ذریعے مغربی اثرات کو مٹانے کی کوششیں کریں مسلمانوں کی حالت زاربہتربنانے کے لئے اتحادکے سواء کوئی چارہ نہیں مسلم ممالک کے حکمران اوربیوروکریسی خوداسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں،دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں فارغ التحصیل علماء کرام اسلام اورملک کے محافظ ہیں مولاناعبدالغنی شہیدنے اپنی پوری زندگی مدارس کے دفاع قران وحدیث کی تعلیم کے فروغ اورامت کی وحدت کے لئے وقف کررکھی تھی۔کانفرنس میں ہزاروں افرادنے شرکت کی کانفرنس سے مولانامحمدحنیف، حافظ حسین احمدشرودی ،قاری انوارالحق حقانی،مولاناشراف الدین،مولوی شیرجان دمڑ،صاحبزادہ کمال الدین،مفتی روزی خان،مولاناصلاح الدین ایوبی،حافظ عبدالقدیم،پیرطریقت عبدالصمدآغا،مولانافیض الباری،مولاناعبدالعارف الحسینی،آغاایوب شاہ اورمولانامحمدقاسم شابوی نے بھی خطاب کیاجبکہ معروف شعراء الحاج ملافقیرمحمددرویش،قاری احسان اللہ فاروقی،ملک جان سنرزخیل اورمولوی نیک محمدعثمان نے انقلابی نظمیں پیش کرکے شرکاء کومحظوظ کیااورخوب دادوصول کی،اس موقع پراسٹیج پرحاجی بہرام خان اچکزئی،شیخ الحدیث مولانانصیرالدین،خطیب حافظ مطیع اللہ،شیخ مولاناعبدالسلام،شیخ القران مولانالاجور،قاری عطاء اللہ مسلم،مولوی محمدمیر،شیخ مولانامحمدشفیع،جامعہ کے شیخ مولاناعبدالبصیر،مولانامحمدایوب،حاجی مجاہدخان نورزئی،ملک عبدالخالق غبیزئی ودیگربھی موجودتھے،کانفرنس میں سینکڑوں نوفارغ التحصیل علماء کرام،مفتیان عظام اورقراء کی دستاربندی کی گئی۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مساجداورمدارس کوتالے لگانا،علماء اورطلبہ کوگرفتارکرنا اورلاؤڈسیپکرکے نام پرخطباء کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرناناقابل برداشت ہے حکومت اپنی روش ٹھیک کرے تعلیمی ایمرجنسی کے دعویداروں نے دینی تعلیمی اداروں پرہاتھ اٹھالیاجوان کے لئے باعث شرم ہے حقوق نسواں بل کی طرح مدارس پرپابندی اورسرکاری خطبے کے اجراء کی حکومتی کوششیں بھی ناکام بنادیں گے علماء کرام اسلام،مدارس اوراسلامی تہذیب کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوانہوں نے کہاکہ پاکستان بھرمیں دہشت گردی کے جوواقعات ہوئے ہیں ان کاکسی بھی واقعہ کادینی مدارس کے کسی فارغ التحصیل سے کوئی تعلق نہیں حکمران بتائیں کہ ریمنڈڈیوس کس مدرسے کے فارغ تھے راکاجوایجنٹ حالیہ دنوں میں گرفتارہواان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں جاتی حکمران غیرملکی ایجنٹوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے اپنی تمام ترتوانائیاں علماء کرام،دینی مدارس کے طلبہ اورمذہبی جماعتوں کے خلاف صرف کررہی ہے مگردراصل دینی مدارس ہی ملک پرکسی غیرملکی جارحیت کی صورت میں ملک کے اصل محافظ ہوں گے مقررین نے علامہ عبدالغنی شہیدکوامت مسلمہ کی عظیم شخصیت قراردیتے ہوئے ان کے نقش قدم پرچلنے کے عزم کااظہارکیااورکہاکہ علامہ عبدالغنی شہیدکے گلشن کے پھولوں کی خوشبومہک رہی ہے انہوں نے کہاکہ آج مختلف فرقوں کے ذریعے مسلمانوں کاشیرازہ بکھیراجارہاہے امت مسلمہ کے اختلافات سے دشمنوں کوفائد ہ پہنچ رہا ہے انہوں نے کہاکہ اسلام کواغیارسے زیادہ اپنے مسلم حکمرانوں نے نقصان پہچایاہندوستان میں علماء اورمدارس آزادجبکہ پاکستان میں ان پرپابندی لگائی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ مصالحتی کمیٹی کے رہنماؤں حافظ محمدیوسف ودیگرشیوخ کوانضمام کے لئے گرانقدرخدمات انجام دیئے ہے اورمخلصانہ کوششیں کرنے پرزبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاانہوں نے کہاکہ مدارس کی خودمختاری پرکوئی آنچ آنے نہیں دیں گے مدارس کی بقاکے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے مدارس نے ملک وقوم کوقابل اورباصلاحیت قیادت اوررہنمادیئے ہیں مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے اغیارکے ایجنٹ ہیں انہوں نے کہاکہ علم کی روشنی پھلانے میں مدارس کانمایاں کردارہے مدارس کے خلاف جوبھی سازش ہوگی اس کوناکام بنادیاجائے گاانہوں نے کہاکہ انضمام سے جمعیت کی قوت میں اضافہ ہواعلماء کرام کے اتحادسے سیکولراورقوم پرست قوتیں خوفزدہ ہیں معاشرے کی اصلاح اوراسلامی تہذیب کے تحفظ کے لئے جمعیت کی جدوجہدجاری رہے گی حکمرانوں کی اسلام دشمن اقدامات کے خلاف جمعیت رکاوٹ ہے ملک کے اسلامی تشخص کومسخ کرنے نہیں دیں گے قائدجمعیت کی قیادت میں مدارس اورآئین کے تحفظ اورمغربی تہذیب کے مضراثرات سے قوم کوبچانے کے لئے ملک بھرمیں مدارس اورجمعیت کی سرگرمیاں جاری ہیں ۔