|

وقتِ اشاعت :   April 22 – 2016

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ساڑھے پانچ لاکھ افغان مہاجرین کے انخلاء کو یقینی بنایا جائے اور انہیں جاری کئے گئے شناختی کارڈز و دیگر دستاویزات منسوخ کی جائیں پارٹی کا شروع سے اصولی موقف یہی ہے کہ افغان مہاجر چاہئے کسی بھی نسل ، قوم یا فرقے سے تعلق رکھتا ہو اسے بلوچستان یا ملکی سطح پر شناختی کارڈز سمیت دیگر دستاویزات کا اجراء کسی صورت درست اقدام نہیں نہ ہی بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ اصولوں کے تحت درست اقدام ہے بلوچستان سیاسی یتیم خانہ نہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکیوں کو بلوچستان میں آباد کیا گیا مہاجرین کی آبادکاری کی پالیسیاں ہنوز جاری ہیں تحقیقاتی اداروں کی جانب سے نادرا افسران و اہلکاروں کی جعل سازی کے ذریعے افغان مہاجرین کو شناختی کارڈز کے اجراء میں ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آ چکے ہیں جن میں اکثر کو سزائیں بھی ہو چکی ہیں اور اس دوران یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ بلوچستان میں ساڑھے پانچ لاکھ افغان خاندانوں کو شناختی کارڈز جاری کئے گئے ہیں پارٹی عرصہ سے اس اصولی موقف پر قائم ہے پارٹی کے خدشات و تحفظات اب درست ثابت ہو رہے ہیں پیسے کے عیوض اور سیاسی دباؤ کے تحت غیر قانونی طریقے سے شناختی کارڈ جاری کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کسی بھی صورت درست اقدام نہیں کہ بلوچستان میں غیر ملکی کی اتنی بڑی تعداد کو مزید آباد رکھا ہے بعض سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی و گروہی مفادات کے لئے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈز کے اجراء کی حمایت کر رہے ہیں جو غیر آئینی مطالبہ ہے بلوچستان حکومت کی مشینری کا بے جا استعمال کرنا قابل تشویش حد تک بڑھتی جا رہی ہے دوسری جانب اس بات پر بھی بضد ہیں کہ بلوچستان میں چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کرائی جائے یہ کیسے ممکن ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کرائی جائے نادرا حکام کی آئے روز گرفتاریوں سے یہ بات یقینی ہو چکی ہے کہ 1979ء سے اب تک جاری کئے گئے تمام شناختی کارڈز اور خاندانوں کی تصدیق کرائی جائے کیونکہ مہاجرین کو شناختی کارڈز مقامی لوگوں کے خاندانوں میں نام شامل کر کے جاری کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ جب تک افغان مہاجرین کا مسئلہ حل اور بلوچستان سے لاکھوں کی تعداد میں اپنے علاقوں میں واپسی تک ، امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک مردم شماری کا انعقاد ممکن ہے اب بھی 60فیصد سے زائد بلوچوں کو شناختی کارڈز جاری نہیں کئے گئے ہیں بلوچستان میں افغان مہاجرین کی وجہ سے کلاشنکوف کلچر ، فرقہ واریت سمیت دیگر سماجی مسائل جنم لے چکے ہیں آج یہاں کے عوام معاشی تنگ دستی کا شکار ہیں اگر حکومت بلوچستان حقیقی معنوں میں مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو افغان بھائیوں کو باعزت طریقے سے اپنے وطن بھیجے اور 1979ء کے بعد جاری شناختی کارڈز کی باریک بینی سے تصدیق کرائے تاکہ لاکھوں کی تعداد میں جعلی شناختی کارڈز کو منسوخ کیا جا سکے انہوں نے کہا تحقیقاتی اداروں نے اب تک جتنے ملزمان کو گرفتار یا سزائیں دیں تمام حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ کس علاقے میں کتنے ہزار جعلی شناختی کارڈز بنائے گئے انہوں نے کہا کہ 2011ء کے خانہ شماری میں سیکرٹری شماریات نے حقائق عوام کے سامنے لائے تھے کہ خانہ شماری میں بڑی تعداد میں بے ضابگطیاں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان کے پشتون علاقوں کی آبادی 2سے 4سو فیصد بڑھ چکی ہے جو انتظامی بے ضابطگی کے مترادف ہے سیکرٹری شماریات نے اس کو بوگس قرار دیا تھا انہوں نے کہا کہ آج بعض لوگ افغان مہاجرین کی حمایت کر رہے ہیں لیکن ایک ایسا وقت آئے گا جب مقامی پشتونوں اور بلوچستانیوں کے لئے شدید مشکلات درپیش ہونگی وفاقی اور دیگر تین صوبوں کے حکومت نے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کیلئے لائحہ عمل طے کیا ہے لیکن حکومت بلوچستان نے افغان مہاجرین کے بارے میں خاموش ہے انہوں نے کہا کہ انتظامی حوالے سے صوبائی حکومت نے جو ڈپٹی کمشنرز سیاسی بنیادوں پر اپنے اپنے اضلاع میں تعینات کئے ہیں اب حکومت کی کوشش ہے کہ جوائنٹ ویریفکیشن کا سلسلہ ختم کیا جائے ہونا تو یہ چاہئے کہ نادرا حکام کی گرفتاریوں کے بعد اب جوائنٹ ویریفکیشن کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے مزید اقدامات کئے جائیں ۔