کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ امریکہ کے چار مہینے کے دورے بعد واپس اپنے وطن بلوچستان پہنچ گئے ۔ ماما نے پرنٹ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کاش آرمی چیف یہ قدم پہلے اٹھا تا ۔ بے گناہ بلوچ بوڑھوں بچوں کا لاپتہ کرنا اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کا ملنا شاید کم ہوتا ۔ اور بلوچوں کی اتنی بڑی بربادی نہیں ہوتی ۔ سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا ہم بار بار پرنٹ میڈیا الیکٹرونک میڈیا پر کہتے آر ہے تھے کہ بلوچستان میں فورسزحالت کو خراب کر رہے ہیں۔ وہ اپنے گناوہوں کو چھپانے کیلئے اور دنیا کا توجہ ہٹانے کیلئے بے گناہ بلوچوں کو لاپتہ رکان ان کی مسخ شدہ لاشوں کا پھینکنا اپنی کرپشن کو چپھانے کیلئے بے گناہ لوگوں کے گھروں میں آپریشن کرکے ان کے گھروں سے ان کے پیسے شادی کے جوڑے سونے چاندی مال میویشی او رقیمتی سامان لوٹ لیا کرتے تھے اور بے گنا ہ بلوچوں کو دہشتگرد ملک دشمن قرار دے کر غائب کیا جاتا تھا۔ یا ان کو شہید کیا جا تھا عبداللہ خٹک ایک من سے زیادہ سونا او راربوں روپے نقد لے گئے اور چاہتے ہوئے ان کی تعریف کی گئی کہ فورسز کے سربراہ نے بلوچستان کے حالات خراب ہوئے تھے اس کے علاوہ باقی افسران نے بلوچستان کے حالات ٹھیک کئے ہوئے تھے اس کے علاوہ باقی افسران نے بھی لوٹ مار اور حالات خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور دہی سلسلہ اب بھی جاری ہے ماما قدیر بلوچ نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جنرل راحیل شریف نے کرپشن پکڑ لیا مال واپس لے لیا جن میں غریب بے گناہ بلوچوں کا گھروں کو تباہ کیا گیا ان کا کیا ہوگا۔ کیا ان کے نقصان کا ازالہ ہوگا۔ کیا بلوچستان میں اب تک یہ سلسلہ جاری رہے۔ بند ہوگا۔کیا بے گناہ لوگوں کو لاپتہ کیا گیا ہے ان کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ یا عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔ آپ نے خود اعتراف کرلیا کہ بلوچستان میں ایف سی کے اعلیٰ عدیداروں نے کرپشن کی ہے ان کو سزا دینے کے بجائے ان کو مراعات کے ساتھ گھر بھیج دیا ۔ انصاف و احتساب یہ نہیں ہے ۔ انصاف وہ ہے کہ ااپ امن کو کورٹ مارشل کرتے ، تو انساف ، احتساب کا تقاضا پورا ہوتا ہے آپ نے کرپشن پکر لیا لیکن انصاف نہیں کیا۔ ، بلوچستان میں اب بھی حالات خراب کرنے میں موجود ہ صوبائی حکومت اور ایف سی برابر کے شریک ہیں، فوج اور ایف سی کو سیاست سے دور رکھیں۔ حکومتی اہل کار اپنی ذاتی دشمنی فوج او رایف سی کے آڑ میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کسی نے یہ بات نہں کی نہ فوجی آفسران اور نہ حکومتی اہل کاراکن حتیٰ کے مشرف دشمن تھا لیکن اس نے بھی یہ بات نہیں کی ماما قدیر بلوچ نے مزید کہاکہ میں امریکہ سے واپس آیا ہوں۔ تو بیمار ہوں چند دنوں کے بعد دوبارہ اپنا بھوک ہڑتالی کیمپ شروع کرونگا جہاں سے چھوڑتا تھا ۔ اگر میڈیا بلیک آوٹ نہیں ہے تو مجھ سے میرے پرانے نمبر پر رابطہ کر سکتا ہے۔