|

وقتِ اشاعت :   April 24 – 2016

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ سے متعلق تمام اختیارات بلوچستان کے عوام کی پاس ہونا چاہئے حقیقی ترقی عوام کی تائید اور حمایت کی بغیر مکمل نہیں ہو سکتا ہے ماضی میں شروع کئے گئے ترقی کی منصوبوں میں بلوچ عوام کی رائے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اہمیت دیا جاتا تو آج بلوچستان کے عوام کی احساس محرومی اور پسماندگیوں کا شکار نہیں ہو تا افغان مہا جرین کی موجود میں کرائے جانے والے مردم شماری کسی بھی باشعور انسان کیلئے ناقابل برداشت ہے پارٹی کے کارکن پارٹی کو جدید خطوط اور منظم بنا نے کیلئے اپنے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے قومی اور سیاسی ذمہ داریاں نبھائیں ان خیالات کا اظہار بلوچستا ن نیشنل پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ ، مرکزی لیبر سیکرٹری منظور بلوچ،مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ،مرکزی کمیٹی کے رکن میر جمال لانگو ، ضلعی صدر اختر حسین لانگو ، نوراللہ شاہوانی، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، محمد اکبر کرد اور محمد ادریس پرکانی نے کلی اسمال آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک محی الدین لہڑی نے سرانجام دیئے انہوں نے کہا ہے کہ آنے والے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے بلوچ قوم کو منظم ہو کر اپنا قومی تشخص اور بقاء کی جدوجہد کرنے کیلئے تمام تر گروہی ، ذاتی اختلافات اور مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بی این پی کی پلیٹ فارم اورتین رنگہ جھنڈے کو مضبوط کرنا ہو گا انہوں نے کہا ہے کہ پارٹی نے ہمیشہ یہاں کے عوام کی مفادات اور حقوق کی جدوجہد کو اولیت دے کر یہاں پر ہونیوالے رواں رکھے گئے ہیں ناروا سلوک پالیسیوں اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف موثر انداز میں آواز بلند کر تے ہوئے یہاں کے عوام کو سیاسی جدوجہد کی طرف راغب کر تے ہوئے جدوجہد میں اہم کردار ادا کی اور کبھی بھی مشکل اور کٹھن سخت وقتوں اور حالات میں یہاں کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا اور حقیقی معنوں میں یہاں کے عوام کی حق نمائندگی کا کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ آج صوبے کی کو نے کونے میں باشعور عوام کی نظریں پارٹی کی اصولی موقف اور ناقابل شکست قربانیوں پر مرکوز ہیں اور پارٹی کسی بھی صورت میں یہاں کے عوام کی اعتماد اور بھروسہ کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے کوئی بھی ذی شعور انسان ترقی کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بلوچستان میں ماضی میں شروع کئے گئے ترقی کے نام پر منصوبوں میں بلوچ عوام کی خواہشات اور ارمانوں کو پورا کر نے کیلئے رائے کو اہمیت نہیں دی گئی یہی وجہ ہے کہ آج بھی قدرتی دولت ساحل وسائل کے مالک بلوچ عوام زندگی کی تمام تر سہولیات سے محروم دربدر کی ٹھوکرے اور کسمپرسی کے حالات میں زندگی بسر کر نے میں مجبور ہے جوکہ استحصال کی منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہاں کے عوام کو ناانصافیوں کا شکار بنا کر پسماندہ رکھا گیا اور جب بھی یہاں کے باشعور عوام میں اپنے بنیادی اور سیاسی حقوق کیلئے آواز بلند کیا تو حکمرانوں نے یہاں کے لوگوں کی مسائل ، مشکلات، احساس محرومی اور پسماندگیوں کو دور کرنے کی بجائے سیاست کے سہارا لے کر سیاسی وجمہوری آواز کو دبانے کی کوشش کی انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے جملہ توانائیوں کو پارٹی کو مضبوط ومتحرک بنا نے کیلئے صرف کرے منظم اور متحرک قومی جماعت کے بغیر کسی بھی صورت میں ہم اپنے وطن اور بقاء کی حفاظت نہیں کر سکتے ہیں اس موقع پر پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن وضلعی سیکرٹری غلام نبی مری ، نائب صدر یونس بلوچ،سیکرٹری اطلاعات اسد سفیر شاہوانی، بی این پی تحصیل دشت کے صدر ملک رفیق شاہوانی، ڈسٹرکٹ کونسل کیچی بیک کے ممبر اور پارٹی رہنماء میر عزیز اللہ شاہوانی ، ہدایت اللہ شاہوانی،میر اقبال حسن لڑی،میر کاول خان میری،جہانزیب خان کاکڑ،محمد آصف جتک ، یار محمد جتک ، صفی بلوچ، غلام نبی سمالانی ، سیف اللہ سمالانی ، میر عبدالودود مینگل ، محمد اقبال رخشانی، میر دشتی خان رخشانی،کامریڈ بجلی بلوچ سمیت علاقے کے معتبرین ، عمائدین وپارٹی کے علاقائی عہدیداران وذمہ داران کثیر تعداد میں موجود تھے۔