|

وقتِ اشاعت :   April 26 – 2016

کوئٹہ: بی این پی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ افغان مہاجرین کی موجودگی میں قرائی جانے والے مردم شماری کافیصلہ تمام عالمی قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے بلوچ قوم کو اقلیت میں بدلنے کیلئے غیر ملکی مہاجرین کو جعلی سرکاری دستاویزات کی فراہمی اورگوادر میں دیگر صوبوں سے لوگو ں کو آباد کرنے کاسازش کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ہمارے سیاست اورجدوجہد کا مقصد ومحور ذاتی مراعات مفادات اوراقتدار کی رسائی ہرگزنہیں ہے بلکہ ہم سیاست کو عبادت کا درجہ دیتے ہوئے عوام کی خدمت پریقین رکھتے ہیں اس مقصد کیلئے پارٹی کے کارکنوں نے اپنے جانوں کا نذرانہ دینے سے بھی دریغ نہیں کیا ان خیالات کااظہار کلی شاہوزئی سبزل روڈ میں منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری منظوربلوچ ،مرکزی کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری ملک عبدالرحمان خواجہ خیل سردارعمران بنگلزئی ،ضلعی صدر اخترحسین لانگو ٹکری منیراحمد بنگلزئی ،جلیل احمد مینگل اورحاجی محمدبخش بنگلزئی نے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پارٹی کے رہنماء ماسٹر عبدالحمید بنگلزئی نے سرانجام دیئے انہوں نے کہاکہ دنیا کی تمام معدنیات ہمارے دھرتی میں موجود ہیں عالمی طاقتیں اپنے معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے بلوچستان کی جیوپولیٹیکل اہمیت کے عامل سرزمین اورقدرتی وسائل سے مالا مال خطے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں بلوچ عوام اتحاد ویکجہتی کے ذریعے سے اپنے قومی تشخص بقاء اورسلامتی کی حفاظت کرسکتے ہیں آنے والے چیلنجز و مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے پارٹی کو مضبوط بنانا اور عوامی رابطہ مہم کی ذریعے سے یہاں کے لوگوں کو سیاسی نظریاتی اورعلمی بنیادوں پر باشعور کرکے جدوجہد کی طرف راغب کرنا وقت اوررات کا اہم ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ بی این پی کوئی نئی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ پارٹی گزشتہ کئی عرصوں سے یہاں کے عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت اورجدوجہد میں مصروف عمل ہے پارٹی نے ہمیشہ بلوچ قومی مفادات کی اصول کی نظریئے کی سیاست کو فروغ دی انہوں نے کہاکہ بزرگ سیاستدان سردار عطاء اللہ خان مینگل کی ناقابل شکست جدوجہد اورقربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ قوم اور بلوچستان کے دفع اورحفاظت کیلئے وقف کررکھا ہے اورآج بھی اس پیرانسری میں وہ اپنے اصولی موقف پر قائم جدوجہد میں مصروف عمل ہے جوکہ آنے والے نسلوں کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ کھٹن مشکل حالات میں ہمارا قومی شناخت بقاء اور سلامتی کا سوال ہے موجودہ حالات میں بلوچ قوم نے سنجیدگی سمجھ داری اور قومی بقاء کی جدوجہد میں اتحاد ویکجہتی بھائی چارگی کامظاہرہ نہیں کیا تو آنے والا تاریخ ہمیں معاف نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی ترقی کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ کیوں کہ انہیں یہاں کے لوگوں کے فلاح وبہبود ترقی خوشحالی تعلیم صحت روزگار سے کوئی سروکار نہیں ہے ان کی دلچسپیاں یہاں کے وسائل پر قبضہ جمانا اوراپنے توسیع پسندانہ پالیسیوں کو تقویت دینا اپنے آمرانہ سوچ کے ذریعے سے مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں گوادر میں ہزاروں سالوں سے آباد مقامی افراد کیلئے آج گوادر کو نوگوایرابنادیا ہے اورگواد رکے مکین آج بھی اکیسویں صدی میں جوکہ ترقی اورخوشحالی سائنس ٹیکنالوجی کا صدی ہے بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں تعلیم صحت روزگار ودیگر سہولیات سے یکسر محروم ہیں جوکہ حکمرانوں کی دعوے کو واضح کرتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم ترقی کی مخالف ہرگز نہیں ہے لیکن قومی تشخص کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش ترقی کے زمرے میں نہیں آتا ہے انہوں نے کہاکہ بی این پی کے کارکنان تمام مکاتب فکر اور معاشرے کے تمام لوگوں کو حقیقی سیاسی جمہوری تحریک کی طرف راغب کرتے ہوئے پارٹی کی سہرانگا جھنڈے کی تلے متحد کرنے میں اپنا بھر پور کردارادا کرکے اپنے تنظیمی اورقومی فرائض ادا کریں اوربلوچ عوام کی حقیقی حق کی نمائندگی اروحقوق کی ترجمانی کا تاریخی رول ادا کرنے میں کسی قسم کی قربانی اورجدوجہد سے دریغ نہیں کیونکہ آج صرف اورصرف بی این پی ہی وہ واحد قومی سیاسی جماعت کے روپ میں موجود بلوچ قوم اوربلوچستان کی اجتماعی اورقومی مفادات کی جدوجہد کے خاطر سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہوکر سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہے اس موقع پر پارٹی کے رہنماء ٹائٹس جانسن ملک عبدالحمید بنگلزئی ،محمدعارف مینگل ،میرعبدالحئی کھیازئی ،بسم اللہ بلوچ، اسماعیل کرد، سلیم ریکی ،ملک محمدعمر بنگلزئی غلام حیدرلاشاری نقیب اللہ مینگل فیض محمد لہڑی میرکاول خان مری ملک نثار کاسی ،ثناء اللہ کھیازئی بیبرگ بلوچ شری حمد مری سمیت پارٹی کے علاقائی عہدیداران علاقے کے معتبرین ومعززین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔