|

وقتِ اشاعت :   April 27 – 2016

کوئٹہ: صوبائی وزیر ترقیات ومنصوبہ بندی ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقی کا عمل جاری ہے رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں محکمہ تعلیم کا تناسب18.71 فیصد مواصلات کا 19.91 فیصد پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا8.49 فیصد ، زراعت کا7.71 فیصد، صحت کا7.04 توانائی کے منصوبوں پر 6.54 فیصد اور پانی کیلئے5.43 فیصد ہے رواں مالی سال 2015-16 میں صوبائی حکومت کی ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی کا حجم54.5 ارب روپے ہے جس میں بیرونی امداد 3.4 ارب روپے بھی شامل ہے اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کیلئے 2250 اسکیمات جن میں جاری اسکیموں کی تعداد940 اور نئے اسکیموں کی تعداد1310 ہے اسی طرح نئے منصوبوں کی لا گت 31.576 ارب روپے جبکہ جاری منصوبے کی لاگت 19.500 ارب روپے بنتی ہے رواں مالی سال کے مقابلے میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کا بروقت اجراء کیا گیا تعمیراتی محکموں کو معیار کے مطابق کام کے مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنانے کا پابند کیا ہے جس کی بناء پر 31 مارچ2016 کو مالی سال2015-16 کیلئے مختلف محکمہ جات کے اسکیموں کی57 فیصد پی سی ون کا مکمل ہو چکا ہے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات اسکیموں کیلئے فنڈز کی بروقت اجراء کیلئے تمام دستیاب وسائل مہیا کر رہی ہے جس کیلئے اس سال 2015-16 کے مارچ 2016 تک 95 فیصد فنڈز کا اجراء یقینی بنا یا جا چکا ہے جوکہ گزشتہ10 سال میں 60 فیصد زائد نہیں تھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری نصیب اللہ بازئی،ڈی جی پی آر کامران اسد بھی موجود تھے انہوں نے کہا ہے کہ رواں مالی سال2015-16 میں وفاقی ترقیاتی پروگرام میں15 فیصد منصوبوں کی منظوری دی گئی جس میں14 کے پی سی ون وفاقی سی ڈبلیو پی اور ایکنک کو منظوری کیلئے پیش کر دی گئی جس میں اب تک7 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے اور اس طرح صوبائی حکومت کی طرف سے99 فیصد پی سی ون6 ماہ کے ریکارڈ مدت میں پاس کر کے وفاقی حکومت کو بجھوائے گئے جس میں سے60 فیصد منصوبوں کی سی ڈبلیو پی اور ایکنک سے منظوری ہو چکی ہے اس طرح ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے تحت وفاقی حکومت نے 88 منصوبوں کیلئے440 ملین روپے مختص کئے تھے جس میں87 منصوبوں کی پی سی ون کی منظوری اور420 ملین روپے فنڈز کا اجراء ہو چکا ہے صوبائی حکومت کے منظو شدہ ترقیاتی فنڈز اور پی سی ون کی بروقت منظوری اور اجراء گزشتہ 10 سالوں کے مقابلے مین انتہائی بہتر ہے جبکہ اس امر کا خاص رکھا جا رہا ہے کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے جس سے لو گوں کی معیار زندگی میں اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوں بعض حلقوں کی جانب سے فنڈز کے ضیاع کا تاثر دیا جا رہا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں انہوں نے کہا کہ حال ہی میں 8 ارب روپے کے منصوبے پائیہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں جس میں قابل ذکر طور پر گڈگورننس پروجیکٹ ، راہا پراجیکٹ، بند خوشحال خان پروجیکٹ اور بچیوں کے فروغ کا پروجیکٹ بہترین انداز میں اپنی خدمات مختلف شعبہ جات میں سرانجام دے رہے ہیں اسی طرح جاری منصوبوں میں حفظان صحت سے متعلق ٹیکہ جات پروگرام، مان اور بچے کی غذائی اور نشوونما کا پروگرام،پسنی فش ہار برواس میں سہولیات کی فراہمی کا پروجیکٹ، گوادر لائیولی ہڈ پروگرام، بلوچستان کمیونٹی ایجوکیشن پروجیکٹ قابل ذکر ہے اسی تناظرر میں زیر غور منصوبوں میں ناری پرالی ژوب ریو پروجیکٹ جو40 ارب روپے کی لاگت کی نہایت ہی اہم منصوبے پر کام مستقبل قریب شروع ہو جائیگابلوچستان بھر میں اس وقت25 ارب روپے کے منصوبے امداد سے چل رہے ہیں جبکہ آنے والے وقتوں میں50 ارب روپے کے مزید منصوبے زیر غور ہیں مرکزی حکومت اور انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیز فنڈز کی مرحلہ وار فراہمی یقینی بناتی ہے موجودہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ ایک جانب تو صوبے میں پانی ذخیرہ کر نے کیلئے بہترین منصوبوں کی نشاندہی کی جائے اسی طرح دوسری جانب جامع تکنیکی حکمت عملی کے تحت ان کے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنا کر پانی کی عدم دستیابی کی شدت میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے اور اسی طرح حکومت عملی وطریقہ کار کے تحت صوبے میں پانی سے متعلق منصوبے زیر تعمیر ہے جس میں شادی کور، بسول، نولنگ، وندر، بارتوزئی کے اہم مقامات پر ڈیمز کی تعمیر شامل ہیں ضلع کوئٹہ ، قلعہ عبداللہ وقلات میں100 چیک ڈیمز کی تعمیر ومرمت حکومت کی جانب سے صوبے میں جاری سوڈیم کی تعمیر کیلئے کام تیزی سے جاری ہے جس میں اب تک46 ڈیمز تعمیر ہو چکے ہیں جبکہ20 ڈیمز کی تعمیر کیلئے پی سی ون وفاقی حکومت کو منظوری کیلئے ارسال کئے جا چکے ہیں جس پر بہت جلد کام کا آغاز کر دیا جائیگا پانی سے متعلق منصوبوں پر مرکزی حکومت، عالمی بینک، ایشیا ترقیاتی بینک کی مالی معاونت واشتراک شامل ہو تی ہے بارانی طریقہ کار میں نوے فیصد پانی ندی نالوں کی نظر ہو کر ضائع ہو جا تی ہے اس ضیاع کو روکنے کیلئے صوبائی حکومت صوبے کے32 اضلاع میں5000 چیک ڈیمز کی تعمیر کا منصوبہ لا رہی ہے تاکہ ان چیک ڈیمز کے ذریعے سیلابی پانی کی وافر مقدار جو کہ12 سے14 ہیکڑ فٹ تک ہے کے ضیاع کو روکنے و اس کو ذرائع آبپاشی کے طور پر استعمال میں لایا جا سکتا ہے جس سے صوبے میں زرعی پیدوار، لائیو اسٹاک ودیگر شعبہ زندگی پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکیں گے کوئٹہ میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کر نے کیلئے مانگی ڈیم کا اہم منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے منظور ہو چکا ہے جس پر اس سال کام شروع ہو جائیگا اسی طرح کوئٹہ کے قریب تر واقع برج عزیز جان ڈیم کو زیر استعمال لانے کیلئے متعلقہ محکموں اور اداروں سے باہمی مشاورت جاری ہے جس سے کوئٹہ شہر کو23 ملین ایکٹر فٹ پانی میسر ہو گا حکومت بلوچستان ایشیائی ترقیاتی بینک وعالمی بینک کی کاوشوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے بدولت ناری پورالی اور ژوب دریائی بیسن جس کا رقبہ ایک لاکھ سکوئیر میل سے زائد ہے اور جس میں صوبے کے15 اضلاع واقع ہیں40 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی پیدوار ذخیرہ اور اس کے بہتر استعمال کیلئے فنڈز کی فراہمی اور معاہدوں پر پیشرفت کر چکی ہے۔