|

وقتِ اشاعت :   May 6 – 2016

اسلام آباد: 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے سینٹ کی فنکشنل کمیٹی نے صوبوں کومکمل اختیارات منتقل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی دارلحکومتوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،صوبوں کو اختیارات کی منتقلی میں درپیش مسائل کیلئے صوبائی چیف سیکرٹریز کو خطوط بھی لکھے جائیں گے سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے تفویض کردہ اختیارات کا ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں چیرمین سینٹ میاں رضا ربانی کے علاوہ کمیٹی کے اراکین سینیٹرز کامل علی آغا، کرنل(ر)سید طاہر حسین مشہدی، نثار محمد خان، محمد علی خان سیف ، محمد عثمان خان کاکٹر، چوہدری تنویر خان، عطاالرحمن اور سیکرٹری سینیٹ امجد پرویز ملک نے بھی شرکت کی اجلاس میں 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات ،درپیش مسائل اور دیگر اہم معاملات کو زیر بحث لایا گیا اراکین نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کمیٹی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پوری صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لے کر ایک موثر لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور مثبت انداز میں معاملات کو آگے بڑھایا جائے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات اور عمل درآمد کے سلسلے میں درپیش مسائل کے حوالے سے صوبائی چیف سیکرٹریز کو خطوط لکھے جائیں گے تاکہ زمینی حقائق سے اگاہی حاصل ہو سکے اور اس سلسلے میں کمیٹی صوبائی دارالحکومتوں کا دورہ بھی کرے گی اور ہر صوبے کے چیف سیکرٹری اور متعلقہ حکام سے بریفنگ لی جائے گی۔