|

وقتِ اشاعت :   May 6 – 2016

کوئٹہ: ڈاکٹر علی احمد قمبرانی کے بھتیجے کو منظر عام پر لایا جائے ، ہزارہ ٹاؤن کے مین گیٹ کو بند کرنے کی سازشوں ناکام بنا دیں جائیں گی 90ہزار مہاجرین کے جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈز کا اجراء پارٹی موقف کی تائید ہے ان خیالات کااظہاربلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے پارٹی رہنماؤں کاظم ہزارہ اور عبدالرازق مینگل سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ بی این پی کوئٹہ کے لیبر سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی کی رہائش گاہ پر پولیس چھاپے اور ان کے بھتیجے شہداد قمبرانی کی اغواء نما گرفتاری ، ہزارہ ٹاؤن کے مین گیٹ کی بند ش کی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں فوری طور پر شہداد قمبرانی کو منظر عام پر لایا جائے ہزارہ ٹاؤن جس کی آبادی لاکھوں کی تعداد میں ہے اس کے مین گیٹ بالمقابل وویمن یونیورسٹی بند کرنے سے ہزارہ ٹاؤن کے مکینوں کا جینا محال ہو جائے گا پارٹی اس ناروا اقدام کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی سے گریز نہیں کرے گی انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی جانب سے گزشتہ روز نادرا ہیڈ آفس کے سینٹر پر چھاپے اور 90ہزار سے زائد مہاجرین کے جعلی شناختی کارڈ بنائے جانے کے انکشاف نے ہمارے اس موقف کی تائید کی ہے کہ بلوچستان سے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو ملکی شہریت دینے کیلئے جعل سازی ، پیسوں کے عیوض اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے شناختی کارڈز کا اجراء کیا جا رہا ہے اس سے قبل بھی بہت سے ایسے نادرا اہلکار گرفتار کئے جا چکے ہیں اور بہت سے لوگوں کو سزائیں بھی ہوئی ہیں انہوں نے دوران تحقیقات انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان میں ساڑھے پانچ لاکھ افغان مہاجرین خاندانوں کو شناختی کارڈز کا اجراء کیا جا چکا ہے ایسی طریقے سے انہیں پاسپورٹ اور لوکل بھی جاری کئے جا رہے ہیں گزشتہ دنوں 90ہزار سے زائد شناختی کارڈز کا اجراء 30ہزار کوئٹہ اور 60ہزار قلعہ عبداللہ سے جاری کئے گئے ہیں غیر ملکیوں کو مختلف مقامی خاندانوں میں شامل کیا گیا جو قابل مذمت ہے اب تو موجودہ حکمرانوں کے اتحادی بھی افغان مہاجرین کو شناختی کارڈز کے اجراء کا رونا رو رہے ہیں جنہوں نے مقامی خاندانوں میں اپنے ناموں کا اندراج کرالیا ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی کا شروع سے واضح موقف ہے کہ افغان مہاجر چاہئے کسی بھی فرقے ، زبان ، نسل سے تعلق رکھتا ہے انہیں ملکی شہریت دینے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں 1979ء سے اب تک مختلف حوالوں سے انہیں شناختی کارڈز کا اجراء مسلسل جاری ہے اور بہت سی سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات کی خاطر افغان مہاجرین کو شناختی کارڈز ، پاسپورٹ ، لوکل اور انتخابی فہرستوں میں اندراجات تک کر لئے ہیں انہیں کبھی مقامی بلوچستانیوں کا خیال نہیں آیا کل غیر ملکی مہاجرین مقامی لوگوں کے حقوق سلب کر لیں گے انہی کی وجہ سے آج دہشت گردی ، مذہبی جنونیت ، بے روزگاری عروج پر ہے افغان مہاجرین بلوچستان کی معیشت پر بوجھ ہیں 2011ء کی خانہ شماری میں مہاجرین کی وجہ سے آبادی کے تناسب میں 400فیصد تک اضافے کا انکشاف سیکرٹری شماریات کیا تھا جس میں بے شمار بے ضابطگیاں کی گئیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت میں شامل بعض سیاسی جماعتیں اب بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ غیر ملکیوں کو شناختی کارڈز جاری کرنے کے حوالے سے صوبائی و قومی اسمبلی میں آواز بلند کر رہے ہیں جو آئینی طور پر درست اقدام نہیں کسی بھی ملک کے قوانین اس بات کا اختیار کسی کو نہیں دیتے کہ وہ غیر ملکیوں کو اپنے وطن میں آباد کر کے انہیں ملکی شہریت دے دو تین سالوں میں جتنے بھی نادرا حکام گرفتار ہوئے اور جو ریکارڈ قبضے میں لیا گیا ملکی تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقائق کو منظر عام پر لائے تاکہ پتہ چل سکے کہ لاکھوں کی تعداد میں جاری مہاجرین کے شناختی کارڈز سے کتنوں کو بلاک کیا گیا ہے گزشتہ روز ہونے والے انکشاف کی بھی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں اور مرکزی و صوبائی حکومت کے ارباب و اختیار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تحقیقات کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کا محاسبہ کریں تاکہ مہاجرین کی آبادکاری کا راستہ روکا جا سکے جعل سازی کے ذریعے بنائے گئے تمام شناختی کارڈز منسوخ کر کے 1979ء کے بعد اب تک جتنے بھی بلوچستان میں شناختی کارڈز بنے ہیں ان کی باریک بینی سے تحقیقات جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی سے کرائی جائے کمیٹی کو فعال و متحرک بنایا جائے نادرا اہلکاروں کی گرفتاری سے واضح ہو چکا ہے کہ بلوچستان کے تمام نادرا سینٹروں سے جاری کئے جانے والے شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کرائی جائے اور جتنے میں مقامی لوگوں کے خاندانوں میں مہاجرین کے نام اندراج کر لئے گئے ہیں انہیں نکال کر تمام جعلی شناختی کارڈز منسوخ اور انتخابی فہرستوں سے نام نکالے جائیں انہوں نے کہا کہ اب تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مہاجرین کو جاری کئے جانے والے شناختی کارڈز کے حوالے سے نادرا کے ساتھ روابط رکھتے ہوئے فہرستوں سے جعل شناختی کارڈز کے ذریعے شامل ناموں کو منسوخ کر دیں انہوں نے کہا پارٹی نے ہر فورم پر آواز بلند کی کہ مردم شماری سے قبل افغان مہاجرین کو جاری شناختی کارڈز منسوخ کئے جائیں اگر مردم شماری میں مہاجرین کے نام شامل کئے گئے تو بلوچ قوم کے ساتھ یہ بہت بڑا ظلم ہو گا۔