اسلام آباد : سپریم کورٹ نے کار چوری اور خرد برد کے الزام میں تین سال اور9 لاکھ جرمانے کی سزا پانے والے سوات کے رہائشی مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر بخت اکبرکی اپیل پر ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کوالزامات سے بری کر دیا ، جبکہ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ، ملک میں برا کام کرکے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا عادت بن چکی ، ایک سرکاری افسر کے گھر سے 68کروڑ برآمد ہوں اور وہ کہے کہ طالبان گھر آئے اور گن پوائنٹ پر رقم رکھ کر گئے اور کہا کہ کل آکر واپس لے جائیں گے ، کراچی سے ٹرک کے ذریعے پنجاب منتقل ہونے والا تیل ٹرک والے گاڑی جنگل میں کھڑی کر کے نکال لیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ڈاکوں نے لوٹ لیا ، اب اس جھوٹ کو کیسے ثابت کیا جائے جرم سارے گاؤں کے سامنے ہوتا ہے لیکن کوئی سچ بولنے کو تیار نہیں ہے ، مقدمہ کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار کی جانب سے وکیل راجہ محمد ابراہیم ستی عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل کو سیاسی انتقام کو نشانہ بنایا گیا ہے ، بخت اکبر محکمہ تعلیم کا ملازم ہے ، ڈیپوٹیشن پر ورلڈفوڈ بنک میں بطو ر ڈسٹرکٹ پروجیکٹ منیجر گیا ،تاہم دوران سروس میرے موکل کو طالبان نے اغواء کر لیا اور اغواء کے وقت میرے موکل کے پاس کمپنی کی شاہزور گاڑی تھی جسے طالبان نے اپنے پاس رکھ لیا جبکہ میر ے موکل کو 6لاکھ تاوان کے عوض رہا کر دیا ، ملزم کو لوئر کورٹ اور ہائی کورٹ سے بے بنیاد مقدمے میں سزا سنائی گئی ، میر ے موکل کو عدالت میں ثبوت فراہم کرنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا ، جبکہ محکمہ کی جانب سے میر ے موکل کیخلاف کوئی ایف آئی آر نہیں درج کرائی گئی ،وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کیخلاف پراسکیوٹر نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے کے یہ گاڑی اس نے بیچ دی ہے ،گاڑی طالبان مینگورہ سے دن دہاڑے لے گئے ساتھ میں میر ے موکل کو بھی ،جبکہ ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا ذاہد یوسف عدالت میں پیش ہوئے اور ملزم کی بریت کی مخالفت کی ملزم کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ملک میں جرم سب کے سامنے ہوتا یہاں تک کے لوگ قتل ہوتے بھی دیکھتے لیکن گواہی کوئی نہیں دیتا شہادت کے لیے گواہ بعد میں ہی بنانا پڑھتا ہے۔