|

وقتِ اشاعت :   May 11 – 2016

خضدار : جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈپٹی چیئر مین سینٹ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا ہے علماء کرام کی دامن ہر دور میں کرپشن بد دیانتی سے پاک رہا ہے ہم نے ہمیشہ ملک کے نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی قوم کو متحد کرکے حفاظت کی ہے لیکن اس کے با وجود اسلامی نظام کی راہ میں مقتدر قوتوں کی جانب سے روکاٹیں حائل کرنا علماء کرام دینی اداروں کی کردار کشی کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہ ادارے چوروں و ڈاکوؤں کو برداشت کرسکتے ہیں لیکن ان کے لئے پگڑی داڑھی اسلامی تشخص نا قابل قبول ہے ایسی سوچ و نظریہ یقینی طور پر اسلام کے ازلی دشمنوں کی ہے جو ہمارے حکمرانوں پر تھونپ دیا گیا ہے لیکن دینی اسلامی و قومی حمیت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اس سوچ کو قبول نہ کریں ان خیالا ت کا اظہار جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈپٹی چیئر مین سینٹ مولانا عبد الغفور حیدری ، جمعیت علماء اسلام پاکستان کے نائب امیر رکن قومی اسمبلی مولانا قمر الدین ، جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر شیخ الحدیث مولانا فیض محمد ، جمعیت علماء اسلام ضلع خضدار کے سیکرٹری جنرل میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر مفتی عبد القادر شاہوانی جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی جانب سے منعقد کردہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے غریب صوبہ میں اربوں روپیہ کی کرپشن حیرت انگیز ہے خاص طور پر ایک ایسی حکومت میں جن کی قیادت اپنے آپ کو فرشتہ کہلاتا تھا ان کا دعوی ٰ تھ کہ وہ متوسط طبقہ کی نمائندہ جماعت کے لیڈر ہیں وہ فٹ پاتھ سے اٹھ کر اقتدار میں آئے ہیں اقتدارسے الگ ہوکر وہاں جا بیٹھیں گے لیکن ان کے کرپشن کردہ رقوم کی دس سے بیس فیصد کمیشن کی رقم کو گنتی کرتے ہوئے نوٹوں کے گنتی کی مشینیں تھک گئیں جمعیت علماء اسلام کے راہنماؤں نے نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشرہ میں اس وقت تک استحکام نہیں آسکتی جب تک اس کے نظام میں بے رحمانہ احتساب کا تصور نہ ہوں کیا اس سے بڑھ کر کوئی ظلم ہوسکتا ہے کہ بلوچستان جیسے صوبہ میں جہاں 70فیصد لوگ پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہوں غربت کی شکل افریقہ کے غریب ممالک سے بھی زیادہ اذیت ناک ہو بجلی علاج معالجہ سڑ کوں کی سہولتوں کا فقدان ہوں اس غریب صوبہ میں کرپشن کی تمام ریکارڈ توڑ دی جائیں جمعیت علماء اسلام کے کے قائدین نے کہا کہ ملک کے سالار جنرل راحیل شریف نے فوج کے اندر احتساب کا عمل شروع کرکے یہ بتادیا ہے کہ کوئی بھی مقدس گائے نہیں لہذا قوم بلوچستان کے میں میگا کرپشن میں ملوث افراد کو ان کے منطقی انجام تک پہنچنے کا انتہائی بے تابی سے انتظار کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ علماء کرام کا کردار ہمیشہ آئینہ کی طرح صاف رہا ہے الحمد اللہ ملک کو لوٹنے والوں میں علماء کا نام کبھی نہیں آیا نہ کہ ملک کے نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کو علما ء نے کبھی گزند پہنچا یا قوم کو تقسیم کرنے کا جرم ہم نے کبھی نہیں کیا بلکہ قوم کو متحد رکھنے و انتشار سے بچانے میں علماء کرام کی کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اس کے باوجود چوروں ڈاکوؤ ں اور کرپشن کرنے والوں کو برداشت کرنا علماء کرام کی راہ میں روکاوٹ ڈالنا ہمارے ملک کے مقتدر اداروں کی ایک کھلی نا انصافی و ملکی مفادات کے برخلاف اقدام ہے کیا ہم یہ نتیجہ اخذ کریں کہ چور ڈاکو ہمارے ملک کے حکمران ہوسکتے ہیں لیکن علماء نہیں کیونکہ اسلامی تشخص پگڑہی ڈاڑہی ہمارے مغربی سورماؤں کے لئے ناقابل برادشت ہیں کہ ہم کب تک دوسروں کے مفادات کے لئے اپنی ترجیحات مذہب و تشخص کو قربان کرتے رہیں گے ۔