|

وقتِ اشاعت :   May 12 – 2016

کوئٹہ :  آل پاکستان مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے صدرحاجی شاہنواز کرد نے کہا ہے کہ منرلز پر رائلٹی اور ٹیکس میں اضافہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو آج سپین کاریز سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں مائنز بند کر کے شدید احتجاج کرینگے جس کی تمام ذمہ داری متعلقہ محکمے پر عائد ہوگی گورنر بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان ہمارے مسئلے کے حل کیلئے ہمیں ملاقات کا وقت دیں امید ہے کہ وہ ہمارے مسئلے کو حل کریں گے جی ایس ٹی میں 475روپے فی ٹن اضافے سمیت دیگر ٹیکسزکے نوٹیفکیشن کو واپس نہیں لیا گیا تو مائنز کا کاروبارخودبخود بند ہوجائے گا کیونکہ مائنز اونرز اتنے بھاری ٹیکس ادا نہیں کرسکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری سردار علی احمد جوگیزئی،یحییٰ ناصر، میر صلاح الدین رند،سیف اللہ پراچہ ، بہروز ریکی بلوچ ،سید آغا اور دیگر مائنز اونرز بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور محکمہ مائنز اینڈ منرل کی جانب سے یک قلم جنبش ہمیں اعتماد میں لئے بغیر صوبے سے نکلنے والے 42منرلز پر رائلٹی اور دیگر ٹیکسز میں تقریباً 600فیصد اضافہ کرکے بلوچستان جو پسماندہ ترین صوبہ ہے اسکو مزید پسماندہ رکھ کر لاکھوں گھرانوں اور ہزاروں مائنز اونرز کو بے روزگار کرنے پر تلی ہوئی ہے صوبے میں بدامنی اور دیگر خراب حالات کی وجہ سے صوبے سے سالانہ 18لاکھ ٹن نکلنے والا کوئلہ آج سالانہ 6لاکھ ٹن پر پہنچ چکا ہے اس صورتحال میں صوبے کے مائنز اونرز بڑی مشکل سے حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے ٹیکس دے کر زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو ریونیو اور صوبے کے لاکھوں غریب گھرانوں کو روزگار دے رہے ہیں حکومت اس ٹیکس اور ریونیو کے بدلے مائنز اونرز کونہ تو کوئی سہولت دے رہی ہے اور نہ ہی انکی مائننگ کے علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام کرتی ہے جس کی وجہ سے انکی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں اور مائنز اونرز سیکورٹی بھی اپنی مددآپ کے تحت حاصل کر رہے ہیں جوکہ حکومت کی ذمہ د اری ہے کہ وہ انہیں پرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے سیکورٹی دے ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی صوبہ سندھ میں پہلے 70روپے فی ٹن رائلٹی لی جاتی تھی 2015ء میں اسکو150روپے فی ٹن کیا گیا پنجاب میں 100روپے فی ٹن 2013ء سے رائلٹی لی جاتی ہے جبکہ بلوچستان میں پہلے 70روپے فی ٹن لی جارہی تھی جس کو یک قلم جنبش مائنز اونرز کو اعتماد میں لئے بغیراس میں 600فیصد اضافہ کرکے ہم اور لاکھوں گھرانوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کی گئی ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں ۔