|

وقتِ اشاعت :   May 12 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات اور احتجاج ختم کر نے کا فیصلہ مسترد کر تے ہیں جب تک ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا جا تا اس وقت تک اپوزیشن کا احتجاج جاری رہے گا سابق سیکرٹری خزانہ کی گرفتاری کے بعد محکمہ خزانہ سے ریکارڈ غائب ہونا ایک المیہ ہے اور ریکارڈ غائب نہیں ہوا بلکہ غائب کرایا گیا ریکوڈک اور گوادر کا بھی قوم پرستوں کے دور حکومت میں سودا کیا گیاان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر انجینئر زمرک خان اچکزئی ، مفتی گلاب کاکڑ اور روف عطاء ایڈووکیٹ بھی موجود تھے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وفاق میں پانامہ لیکس اور بلوچستان میں خزانہ لیکس کی باتیں ہو رہی ہے اور محکمہ خزانہ سب محکموں کی ماں ہے ہر چیز میں بلوچستان کا خزانہ استعمال ہو رہا ہے گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ، صوبائی وزراء چنگیز مری،جان جمالی،سرفراز بگٹی، سردار رضا بڑیچ ہمارے پاس آئے اور ہمیں منانے کی بھر پور کو شش کی اور اپوزیشن نے اجلاس طلب کیا اجلاس میں تمام با توں پر غور وخوص ہوا انہوں نے کہا ہے کہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں سب چور نہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ جو چور ہے ان کی تعین کی جائے 40 ارب روپے لیپس ہونے کے نشانات سامنے آنا شروع ہو گئے انہوں نے کہا ہے کہ اگر حکومت اور وزیراعلیٰ ذمہ داروں کا تعین کر لے تو ہم ان کا پھر جائزہ لیں گے معاملہ اس طرح نہیں کہ سابقہ وزیراعلیٰ کو بری الزمہ قرار دیا جائے قانونی طور پر مشیر خزانہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اورسابقہ وزیراعلیٰ کو وعدہ یاد دلاتے ہیں کہ اسمبلی فلور پر کہا تھا کہ اگر ایک پائی ثابت ہوئی تو ہم مستعفی ہوجائیں گے اب تک تو نہ وہ مستعفی ہوئی اور نہ ہی کسی کو مورد الزام قراردیا اور این ایف سی ایوارڈ پر بھی گزشتہ2 سالوں سے کوئی اجلاس نہیں ہوا اور سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کا ہور ہا ہے اگر 40 ارب روپے کسی کے الماری ہے تو ہمیں بھی بتایا جا ئے اور موجودہ وزیراعلیٰ سابقہ حکومت کی ذمہ داری اپنے اوپر نہ لے اور2010 سے2013 تک جو گندم خرا ب ہوئی اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے اور عوام کے اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ ہے اور حکومت کے فیصلے کو مسترد کر تے ہیں صوبے کے عوام اور اپوزیشن حکومت کو کسی بھی کرپشن کی اجازت نہیں دے گی ڈی جی نیب کے بیان میں کہا گیا کہ کئی ریکارڈ غائب ہوا بلکہ یہ ریکارڈ غائب نہیں ہوا غائب کروایا گیا افسوس کے بات ہے کہ دباؤ کے تحت ریکارڈ کو غائب کرکے ان لوگوں کو محفوظ راستہ دی جا رہی ہے جو کرپشن میں ملوث ہے انہوں نے کہاہے کہ جمعیت علماء اسلام نے موجودہ اور سابقہ اور پارلیمانی گروپ کا اجلاس طلب کیا اور بتایا گیا کہ اس سال رمضان تک کوئی بھی عمرے پر نہیں جائیگا اور ہم بھی عمرے پر نہیں جائیں گے تاکہ صاف وشفاف تحقیقات ہو اگر ہم پر کسی کا الزام ہے تو ثابت کرے ہم ان کیلئے بھی تیا رہے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہاکہ محکمہ خزانہ کے ساتھ ساتھ پلاننگ ڈویلپمنٹ اور لوکل گورنمنٹ بھی ذمہ دار ہے ایک محکمہ میں اتنا کرپشن نہیں ہو تا جب تک محکمے ساتھ نہ ہو اور ہم غیر جمہوری طریقے سے حکومت کو گرانا نہیں چاہتے 40 ارب روپے کے اثرات ملنا شروع ہو گیا جو ذمہ دار لوگ ہے ان کو سامنے لایا جائے ریکوڈک اور گوادر کا سابقہ حکومت نے سودا کر لیا اور ان تمام منصوبوں کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے جن میں خرد برد ہوئی ۔