|

وقتِ اشاعت :   May 13 – 2016

کوئٹہ:  پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدرو سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ تورخم میں باڑ لگانے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں اور اس فیصلہ پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ دوسری قوتوں نے کیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی خارجہ پالیسیوں کو کسی بھی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں بارڈر پر پشتونوں کے مختلف قبائل آباد ہیں اور قبائل کو کسی بھی صورت تقسیم نہیں ہونے دیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے حکمرانوں کی کوشش رہی کہ افغانستان میں حالات خراب کرکے اپنے مقاصدحاصل کریں پشتونوں فرنگی نے ایک منصوبے کے تحت تقسیم کیا اور عجیب صورتحال ہے فرنگی کو نہیں مانتے لیکن ان کے فیصلے آج بھی تسلیم کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ جب تک پشتون بلوچ سندھی اور دیگر محکوم اقوام کو فیصلوں میں خودمختیار نہیں کرتے اس وقت تک اس ملک کی حالت کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ تورخم بارڈر ہو یا چمن بارڈر پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کسی بھی صورتحال خاموش نہیں رہے گی پشاور‘ اسلام آباد اور کوئٹہ کو محفوظ بنانے کیلئے جب تک افغانستان میں مداخلت بند نہیں کی جاتی اس وقت تک حالات ٹھیک نہیں ہونگے اور تورخم بارڈر پرباڑ لگانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کا نہیں ہے بلکہ ان قوتوں کا جنہوں نے ہمیشہ اس ملک میں پارلیمنٹ کے فیصلوں کا احترام نہیں کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پشتونوں کو آج تک پشتونوں کو حقوق نہیں دیئے گئے ۔