|

وقتِ اشاعت :   May 13 – 2016

کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا ہے کہ اسپیکر حکومتی اراکین کو تقسیم کر نے کی کوشش نہ کرے کہیں یہ نہ ہو کہ ہم اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں عوام کے خدمت کیلئے آئے ہیں چند اراکین کی حمایت پر قرارداد یں منظور نہیں ہو تی اور اپنی ہی جماعت کے خلاف اس طرح کے فیصلے نہیں کئے جا تے ان خیالات کاا ظہار انہوں نے حکومتی خواتین اراکین کی جانب سے مشترکہ قرارداد نمبر101 کی پیش اور منظور ہونے کے بعد اظہار خیال کر تے ہوئے کیا وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا ہے کہ رمضان پیکج کے حوالے سے خواتین اراکین ہی تجویز دے خواتین کیچن بہتر انداز میں چلاتی ہے انہیں اندازہ ہے کہ کیا کر نا چا ہئے اجلاس کے دوران حکومتی خواتین اراکین ڈاکٹر شمع اسحاق، کشور احمد جتک، ثمینہ خان، سپوژمئی اچکزئی، معصومہ حیات، راحت جمالی، یاسمین لہڑی، شاہدہ روف، عارفہ صدیق اور حسن بانو کی جانب سے مشترکہ قرارداد 101 ڈاکٹر شمع اسحاق نے پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا پسماندہ اور دور دراز علاقوں پر محیط ہے عوام کی بیشتر آبادی غربت اور پسماندگی کا شکار ہے دوسری جانب ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد اس طرح حکومت کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبے کے غریب عوام کو اس مقدس اور بابرکت ماہ میں ریلیف فراہم کر نے کیلئے مفت رمضان ریلیف پیکج دے اور کہا ہے کہ ہمیں کابینہ بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جائے تو بہتر انداز میں تجاویز دے سکیں گے تاجروں کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے پرائس کنٹرول کمیٹیز کو فعال کرنا ہو گا ماہ رمضان میں قیمتی کوئٹہ سمیت تمام اظلاع میں یکسر ہونی چاہئے اسپیکر راحیلہ حمید درانی نے رائے شماری کے بعد قرارداد کو منظور کر دی جس کے بعد سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے قرارداد کی منظوری پر اعتراض کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح قراردادیں منظور نہیں ہو تی قرارداد اچھی ہے مگر اس پر زیادہ زور نہ دیا جائے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ قرارداد کو منظور اور نا منظور نہ کرے بلکہ اس پر بیٹھ کر مثبت تجاویز دے حکومت پارٹیوں کا ہے اور اس پر کمیٹی بنا دی جائے مشیر اطلاعات سردار رضا بڑیچ نے کہا ہے کہ ہم اراکین کو یقین دلاتے ہیں کہ ماہ رمضان میں عوام کو ریلیف فراہم کر نے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے جس کے بعد اسپیکر نے قرارداد کو منظور کر دی جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے اٹھ کر کہا کہ اسپیکر حکومتی بینچوں کو تقسیم نہ کرے اور نہ ہی حکومت کے درمیان اختلافات پیدا نہ کرے کہیں یہ نہ ہو کہ ہم اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں عوام کے خدمت کیلئے آئے ہیں چند اراکین کی حمایت پر قرارداد یں منظور نہیں ہو تی اور اپنی ہی جماعت کے خلاف اس طرح کے فیصلے نہیں کئے جا تے بعد میں اسپیکر نے مذکورہ قرارداد کو حکومت کی یقین دہانی پر نمٹا دی گئی ۔