کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 30اضلاع کے 640یونین کونسلز میں سہ روزہ انسدادپولیومہم شروع ہوگئی ،انسداد پولیومہم کے دوران 5سال تک کے عمر کے 23لاکھ 94ہزار846بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کاہدف مقرر کیاگیاہے جس کیلئے 6773موبائل ٹیمیں ،825فکسڈ سائٹ اور340ٹرانزٹ پوائنٹس بنائے گئے ہیں ۔حکومت بلوچستان کی جانب سے پولیومہم کے سیکورٹی کے لئے سخت انتظامات کئے گئے ہیں جس کیلئے پولیس ،لیویز اورفرنٹیئرکورکے جوان سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے ، افغان مہاجرین کی صوبے میں 12کمیپس ہیں جن میں 51ہزار کے قریب بچے ہیں جنہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہد ف مقرر کیا گیا ہے ،ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوارڈینیٹر ڈاکٹرسیف الرحمن نے انڈیپنڈنٹ نیوزآف پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ انسداد پولیومہم کو کامیاب بنانے اورہربچے کو قطرے پلانے کیلئے کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو ہائی رسک علاقوں میں کام کریں گے۔افغان مہاجرین کے بچوں کو قطر ے پلانے کیلئے ٹاسک فورس قائم کیا گیا ہے جو کہ ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں اپنے اپنے اضلاع میں پولیو مہم کو مانیٹر کرینگے ۔کمیٹیوں میں ڈی ایچ اوز اور ای او سی کے ممبران بھی شامل ہونے جو کہ ہر ما ہ پولیو مہم سے متعلق اجلاس منعقد کرکے مہم کا جائز ہ لینگے ۔۔ ڈاکٹر سیف الرحمن نے کہا کہ پولیو مہم کوبہتر بنانے کیلئے علماء کرام،قبائلی رہنماؤں اورمعتبرین کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ بلوچستا ن کے گرم علاقوں سے سرد علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنیوالے خاندانوں کا خصوصی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان کے زریعے پولیو وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہو ۔ان کے بچوں کو پولیو مہم کے سلسلے میں قائم مستقل سینٹرز میں قطرے پلائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے مرض سے بچانے کیلئے پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ بچوں کو پولیو جیسی موزی مرض سے بچایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ یونیسیف کے تعاون سے اب تک صوبے میں پولیو مہم میں کافی کامیابی ملی ہے ۔اور پولیو کے مکمل خاتمے تک یہ مہم جاری رہیگا ۔دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اورآل پاکستان پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن بلوچستان نے گزشتہ روز شروع ہونیوالے انسداد پولیو مہم سے مکمل بائیکاٹ کااعلان کیاہے ان کاکہناتھاکہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے جائیں ہر قسم کے مہمات سے بائیکاٹ کااعلان کرتے ہیں دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے احتجاج کے باعث صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بڑے ہسپتالوں بولان میڈیکل کالج اور سول ہسپتال میں دوردراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کوشدیدمشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے ۔