کوئٹہ : جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی و اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت میں شامل وزراء عوام پر رحم کرکے فوری طورپر مستعفی ہو جائیں اور کرپشن کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے بلوچستان میں خزانہ لیکس نہیں ہوا بلکہ برسٹ ہوا اور اس سے صوبہ کا پہیہ جام ہو گیا موجودہ حکومت نااہل حکومت ہے اور حکمرانی کا حق نہیں رکھتی ینگ ڈاکٹروں کا مسئلہ اور بی ڈی اے کے ملازمین کو فوری طورپر مستقل کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپوزیشن اراکین سردار عبدالرحمان کھیتران عبدالمالک کاکڑ مولوی معاذ اللہ کے ہمراہ اپوزیشن چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی قیادت نے جس طرح پریس کانفرنس کرکے عوام کو تسلی دی کہ وہ خود اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں اگر ان میں اخلاقی جرأت ہوتی تو وہ اپنی ہی باتوں پر عمل کرتے اور مستعفی ہو جاتے توخوش آئند بات ہوتی مگر سیکرٹری کے گھر سے ایک ارب روپے ملنے کے باوجود نیشنل پارٹی کے وزراء کا استعفیٰ نہ دینا جمہوری کے منافی ہے اور انہی کے محکمے میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ کرپشن ہو رہی ہے اور جو چور مچائے شور کے نعرے اپوزیشن پر لگتے اب یہ نعرے ان پر فٹ ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں دھمکی نہ دیں ہم عوام کے پیسے کا ضرور حساب لیں گے اور ڈھائی سال کے دوران اپوزیشن کیخلاف تمام اداروں کے پاس گئے اور ان سے انکوائری کرائی گئی مگر اس سے کچھ ثابت نہ ہوا تو اب الزام تراشی پر اتر آئے ہیں انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں نے وفاق کے سامنے بلوچستان کے حوالے سے کوئی بھی کیس پیش نہیں کیا اور ہمارے ہی دور میں جو ترقی ہوئی تھی اب اسی ترقی کو یہ لوگ سامنے لاکر صوبے کے عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر اگر بلوچستان کی مخلوط حکومت نے آواز اٹھائی تو وفاق ان کی وزارتیں فوری طورپر ختم کرے گی تعلیم ‘ صحت اور دیگر شعبوں میں صرف پرسنٹیج بڑھایا گیا مگر کوئی تبدیلی نہیں آئی انہوں نے کہا کہ الماریوں میں پڑے اربوں روپے اگر سرکاری ہسپتالوں میں سٹی اسکین اور ایم آر آئی سمیت دیگر جدید آلات پر خرچ کرتے تو ینگ ڈاکٹرایسوسی ایشن ہڑتال کرنے پر مجبور نہ ہوتے اور حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ہڑتال پر ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اسی طرح ضد اختیار کئے رکھی اور استعفیٰ نہ دیا تو آنے والی نسلیں انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی بلوچستان کا خزانہ لیکس نہیں بلکہ برسٹ ہوا ہے جس سے بلوچستان میں ترقی کا پہیہ جام ہو گیا ۔