کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ ملک میں پارلیمنٹ اور جمہوریت کو مضبوط کر نے کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے پارلیمنٹ احتسابی ادارہ ہے پارلیمنٹ میں اپوزیشن خود متحد نہیں ہے اور اپوزیشن کو متحد ہو نا چا ہئے جب بھی آرمی چیف کی تقرری اور روانگی کی بات ہو تی ہے تو ملک میں آفٹر شاکس کا سلسلہ شروع ہو تا ہے احتساب سب کا ہو نا چاہئے پانامہ ہو یا ٹینکی لیکس ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا فیض محمد ، مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد ، صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ نے جمعیت کے دفتر میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر منیراحمد ملازئی کی جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا منیراحمد ملازئی نے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ میر اتعلق خاران اور اپنے قبیلے کا سربراہ ہو میری قوم خاران ما شکیل ، قلات، خضدار، وڈھ، واشک ، پنجگور، تربت، دالبندین، چاغی، نوشکی کے علاوہ مسلم باغ کاریزات رود ملازئی، قلعہ سیف اللہ ، لورالائی اور دیگر علاقوں میں بستی ہے میں ملازئی قومی اتحاد جس میں پشتون ملازئی بھی شامل ہے کی سربراہ ہو اور اب میں نے فیصلہ کیا کہ قومی سطح پر ایک قومی سیاسی جماعت میں شامل ہو کر ملک اور قوم کی خدمت میں اپنی صلاحیت صرف کر سکوں بہت سوچ وبچار کے بعد میں جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا فیض محمد نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں جمعیت علماء اسلام کا کردار بہت اہم ہے اور ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے پاناما لیکس کے حوالے سے حکومت نے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی جو تمام صورتحال پر غور کرینگے انہوں نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام وفاقی حکومت میں حکومت کا حصہ ہے اور ملک کی مفاد کی خاطر ہمیشہ ان قوتوں کا راستہ روکا گیا جو ملک میں انار کی پیدا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اپوزیشن میں ہے اور جس طرح صوبے کے صورتحال ہے ان کا مقابلہ کرینگے مرکزی سطح پر اس حوالے سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کی ہم پابند ہو نگے اور آج3 بجے ہاکی گراؤنڈ میں جمعیت علماء اسلام کا بہت بڑا جلسہ ہو گا جس میں پارٹی قائد مولانا فضل الرحمان اور دیگر مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کرینگے جو جلسے کے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ احتسابی ادارہ ہے جمعیت علماء اسلام نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لئے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے وزیراعظم اپوزیشن کے مطالبے پر پارلیمنٹ میں آئے تھے وزیراعظم کے بیان سے اختلاف کا حاصل ہے کاج کے اپوزیشن احتجاج کر نے کی بجائے وہ حق پارلیمنٹ فلور پر استعمال کر تے تو بہت بہتر ہوتا اسپیکر کے دعوت کے بعد اپوزیشن نے اپنا کردار ادا نہیں کیا اپوزیشن متحد نہیں رہ سکے اور اب پارلیمنٹ میں پہلے اپوزیشن کو متحد ہو نا چاہئے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان قوم پرستوں اور مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت پر کرپشن کے حوالے سے بحیثیت اپوزیشن ضرور احتجاج کریگی مسلم لیگ(ن) کی نہ پہلے اور نہ اب کی حکومت ہے جمعیت اس وقت اپوزیشن میں ہے اور اس موجودہ صورتحال پر کرپشن کے حوالے سے احتجاج کر نا ان کا حق ہے احتساب پانامہ لیکس ہو یا ٹینکی لیکس ہو نا چا ہئے اب ٹینکوں سے پانی کے بجائے ڈالر نکل رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ 2 شریف میں سویلین شریف کا ساتھ دینگے اور جمعیت علماء اسلام کسی بھی طریقے سے غیر جمہوری حکومت کیلئے کندھا استعمال نہیں کریگی جمہوریت کو مضبوط اور نظام کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے جمعیت علماء اسلام ڈی پی او جعفرآباد جہانزیب کاکڑ اور جمعیت علماء اسلام کے سابق ناظم اقبال کاسی کی قتل کی مذمت کر تے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر تے ہیں کہ ان کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔