کوئٹہ : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے پریس ریلیز میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری وصوبائی وزیر بلدیات سردار مصطفی خان ترین کے صاحبزادے اسد خان ترین کے اغواء کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دراصل پشتونخوامیپ اور سردار مصطفی خان ترین کو ان کے اصولی موقف بالخصوص پشین اور دیگر علاقوں میں قومی اور اولسی جرگے کی سربراہی اور اسکے پلیٹ فارم سے ضلع پشین کے تمام عوام کی بلا امتیاز سرومال کی تحفظ اور علاقے میں امن وامان قائم رکھنے کی جدوجہد کی پاداش میں سز ا دینا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ سردار مصطفی خان ترین نے پشین میں بالخصوص اور دیگر علاقوں میں بلعموم اغواء برائے تاوان کی واداتوں میں ملوث عناصراور ان کے پروردہ قوتوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جس کی سز اء آج انہیں بیٹے کی اغواء کی صورت میں ملی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوا میپ کا روز اول سے ملک اور صوبے میں امرقوتوں جاسوسی اداروں کی متوازی حکومتوں کی شدید مخالفت اور مزاحمت کی ہے کیونکہ ملک وصوبے میں حکمرانی کا حق صرف اور صرف عوام کے منتخب عوامی نمائندوں کو حاصل ہے اور ملک کے تمام داخلی اور خارجی فیصلوں کا اختیار بھی منتخب پارلیمنٹ کا حق ہے جبکہ اس کے برعکس آج بھی امر قوتیں عوام کے منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی اور ان کے نمائندوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے کی بجائے ایک متوازی حکومت چلانے پر عمل پیرا ہیں جسے عوام کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسد خان ترین کااغواء بھی ان تمام واقعات کا تسلسل ہے جو پشین اور دیگر شہروں میں ماضی میں ہوتے رہے ہیں اور جو عناصر ان مذموم حرکتوں میں ملوث اور ان گروپوں کی جس طرح پشت پناہی ہوتی ہے وہ عوام کے سامنے کوئی ڈکھی چھپی بات نہیں۔گزشتہ روز پشین کے آل پارٹیز کانفرنس اور قومی جرگے کے طویل اجلاس میں بھی جرگے کے مشران نے کھل کر ان دہشتگردوں ،انتہاپسندوں اور اغواء برائے تاوان کے مسلح گروپوں کی خفیہ اداروں کی جانب سے پشت پناہی کی نشاندہی کی اور ان اداروں کی جانب سے سرپرستی کرنے پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیااور ماضی میں بے شمار ایسے واقعات میں ملوث عناصر کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرفتاری لیکن بعد میں جاسوسی اداروں کی ہدایت پر انہیں چھڑانے کی کئی مثالیں پیش کئے۔بیان میں کہاگیا ہے کہ جب تک ان دہشتگردوں انتہاپسندوں اغواء برائے تاوان کے مسلح گروپوں کی پشت پناہی اور سرپرستی ترک اور ان کا قلع قمع نہیں کیا جاتا اس وقت تک علاقے میں امن کا قیام محال ہوگا۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان گروپوں کی سرپرستی کرنے والے اداروں کو ان دہشت گردوں اور اغواء کاروں کی سرپرستی فوری طور پر ترک کرنا ہوگااس سے پہلے کہ ملک اور خصوصاً صوبہ مزید تباہی وبربادی کا شکار ہو۔بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اسد خان ترین کی بازیابی کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں جائیں اور ان کی باحفاظت اور محفوظ بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔