|

وقتِ اشاعت :   May 23 – 2016

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ دانشمند کی خاموشی اور جاہل کی شعلہ بیانی سے معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں اختر مینگل نے قبائلی تنازعے کو سیاسی بناکر کارکنوں کی بلی چھڑاتے رہے جو شخص اپنے کارکنوں کے قاتلوں کا نام تک نہ لے سکے وہ بلوچ قوم اور بلوچستان کی نمائندگی کا کس منہ سے دعویٰ کرسکتے ہیں سرداراختر جان مینگل دھواں چھوڑنے والی وہ خراب مشین ہے جو دھواں تو زوروں کا چھوڑتی ہے آگے نہیں بڑھتی ۔ترجمان نے بی این پی مینگل کے سربراہ کی نیشنل پارٹی کی قیادت کے خلاف طوفان بدتمیزی کو سیاسی اخلاقی اور بلوچ روایات کی پامالی قرار دیا ۔ترجمان نے کہا کہ موصوف نے پارٹی قیادت کے خلاف تو دشنام طرازی کی لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اختر جان مینگل آج تک اپنے کارکنوں کے قاتلوں کا نام تک نہیں لے سکتے ہیں جس لیڈر میں اپنے کارکنوں کے قاتلوں کا نام لینے کی جرات اور ہمت نہ ہو وہ کس طرح شریف لوگوں کی پگڑی اچھال سکتا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ دوسروں پر کرپشن کا الزام لگانے والا موصوف یہ تو بتائے کہ کیا وڈھ کے مرچوں کی کاشت سے کوئی کھرب پتی بن سکتا ہے کوئٹہ ،کراچی ،وڈھ ،لندن ،دبئی کے محلات کن ذرائع سے بنائے گئے کیا یہ بلوچ قوم کے حقوق کی قیمت لگاکر حاصل نہیں کئے ۔ترجمان نے کہا کہ بلند و بانگ نعروں سے تو معصوم کارکنوں کے جی کو تو چند لمحوں کیلئے بہلایا جاسکتا ہے لیکن قوم کی تقدیر بدل نہیں بدل سکتی نعروں اور بلند وبانگ وعدوں کا سہارا وہی لوگ لیتے ہیں جو عمل سے عاری ہوتے ہیں اور اگر بڑی باتوں سے بلوچستان کے عوام کی بدحالی دور ہوتی تو دھواں چھوڑنے والی مشین کے پیشرو بہت پہلے نہ کام کرچکے ہوتے ۔ترجمان نے کہا کہ بی این پی مینگل کے قائدین موسمی سیاست کرنے والے لوگ ہیں جب بلوچستان میں سیاسی گرمی بڑھتی ہے تو راہ فرار اختیار کرتے ہیں اب بھی موصوف سیاسی موسم کا فائدہ اٹھاکر سیاست کے میدان میں کود پڑے ہیں اب بھی موصوف دوبئی سے بلوچستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں گفتار کے غازی چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے والے ہیں سرکس کے شیروں سے بلوچستان کے عوام بخوبی آگاہ ہیں۔