|

وقتِ اشاعت :   May 31 – 2016

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ دشت سائیجی میں پانچ افراد کے قتل پر بی آر اے کی وضاحت قتل کے اصل محرکات پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے ۔ترجمان نے کہا کہ ایسے واقعات ضلع کیچ میں بہت زیادہ ہیں جنہیں مسلح گروہوں نے بغیر کسی وجہ کے قتل کرکے ان پر مخبری جیسے بے ہودہ الزامات بھی لگائے لیکن حالیہ واقعہ کی کیفیت بالکل مختلف ہے جنہیں اغواء کیا گیا ان سے گاڑی چھینی گئی بعد میں خاندان کے دیگر افراد سے رابطہ کرکے شرم کے مارے پیسے نہیں مانگ سکے مگرمغویوں کو لانے کیلئے ان سے ایک گاڑی کا مطالبہ کیا وہ گاڑی بھی کمانڈرصاحبان نے ہضم کرلی بیان میں کہا گیا کہ بی آر اے نے کوئی انکوائری نہیں بیٹھائی ہے یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں اور اپنے گناہ پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ دشت سائیجی کے پانچوں شہداء کے قتل کا مقدمہ عوام نے بی آر اے کے خلاف درج کرلیا ہے اورانہیں اس خون ناحق کا بلوچ عوام کو حساب دینا ہوگا بیان میں بی این پی کے ترجمان کے بیان پر انتہائی افسوس و دکھ کا اظہار کیا گیا ۔ترجمان نے کہا کہ بی این پی مینگل دو گھوڑوں کی سواری چھوڑ دے اور واضح سیاسی موقف اپنائے ۔ترجمان نے کہاکہ اپنے کارکن سے تعزیت کرنے کی بجائے براہ ر است ان خاندانوں سے تعزیت کی جائے جن کے لخت جگر کو شہید کیا گیا ہے شہیدوں کے والد ،بھائی ،بچے اور دیگر قریبی عزیز موجود ہونے کی صورت میں اپنے کارکن سے تعزیت کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ترجمان نے کہا کہ اگر موصوف خاندان کا سربراہ ہوتا تو بات سمجھ میں آجاتی ۔ترجمان نے کہا کہ دشت سائیجی کے شہیدوں کے کیس کی بی این پی نے ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ملاکر معاملے کوگول کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی اگر بلوچ مسلح گروہوں کے اس عمل کی مذمت نہیں کرسکتی ہے تو بہتر ہے کہ وہ اسطرح کے بیان دینے سے بھی گریز کرے جس سے شہداء کے خاندانوں کی دل آزاری ہو ۔بیان میں کہا گیا کہ حالیہ سانحہ نے ضلع کیچ خصوصاً مکران کے عوام کو جنھجوڑ کر رکھ د یا ہے اس واقع سے مسلح گروہوں کے مقاصد مکران میں زیادہ کھل کرسامنے آگئے ہیں آئے روز نوجوانوں کو قتل کرنا اور بھونڈے الزامات لگانا ،اسکول ،ہسپتال اورواٹر سپلائی اور بندات کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالنا اوران سے بھتہ وصول کرنا معمول بن چکا ہے بی آر اے کے اسی گروپ پر جنہوں نے ان پانچ بے گناہ و باعزت افراد کو قتل کیا ان پر یہ بھی الزامات ہیں کہ انہوں نے مختلف گروپوں سے بھتہ وصولی کیلئے لوگوں کا اغواء کیا ہے اور وصولی کے بعد ان کو رہا بھی کیا ہے ۔