کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ گوادر کاشغر روٹ کے مسئلے پر کوئی سودا بازی کرے یا نہ کرے عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی قیمت پر سودا بازی کرنے کو تیار نہیں ہے گوادر کاشغر روٹ میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ہم وہ راستہ اختیار کرینگے جس کا رکنا پھر مشکل ہو گا جس طرح کالا باغ ڈیم کو کسی کا باپ نے نہیں بنایا تو اسی طرح گوادر کاشغر روٹ بھی کوئی مائی کا لال تبدل نہیں کر سکتا کسی کو بھی افغانیت پر شک نہیں ہوناچا ہئے ہم افغان ہے اور افغان رہیں گے مقتدر قوتیں سی پیک کے مسئلے پر پشتونوں کے حق میں آواز بلند کرے یہ ادارہ صرف پنجاب کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ادارہ ہے او روہ اپنے وقار کو بڑھانے کیلئے گوادر کے عوام کو سی پیک کے مسئلے پر مطمئن کریں ملک میں بار بار مردم شماری کے التواء کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے پشتون علاقوں میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے ، نادرا اور پاسپورٹ حکام کی جانب سے پشتونوں کے تذلیل کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں لوگ اغواء کاروں ، ڈکیتوں، رہزنوں کی رحم وکرم پر ہے حکمران میگا کرپشن ، اقرباء پروری ، عدم شفافیت ، قبضہ گیری کو مقصد بنا بیٹھے ہیں ہم قوم سے ادراک کرنے کی اپیل کر تے ہیں ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی ، صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین کاکڑ،عبدالمالک پانیزئی، ارباب عمر فاروق کاسی،اصغر علی ترین،میر علی آغا،ملک نعیم خا ن بازئی، جمال الدین رشتیا، ملک عثمان اچکزئی، مابت کاکا، محمد ابراہیم کاسی، ملک انعام کاکڑ، خلیل آغانے گوادر کا شغر روٹ کی تبدیلی کے خلاف احتجاجی جلسے سے با چا خان چوک پر خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر کوئٹہ،ژوب، قلعہ عبداللہ، چمن، زیارت،لورالائی،قلعہ سیف اللہ،پشین،ہرنائی، جعفرآباد،موسیٰ خیل، شیرانی سے جلوسوں کی شکل میں ہزاروں افراد نے شرکت کی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے جب بھی ملک میں محکوم عوام کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی ہے تو ہمیں غدار کہا گیا اور ہمیشہ سے غداری کا لیبل لگایا جا تا ہے ہم گوادر کا شغر روٹ کے مخالف نہیں بلکہ اس طرح کے منصوبے ہمارے درمیان ہو تاکہ ہر کوئی مستفید ہو 2008 میں چائنا کیساتھ حکومت پاکستان نے اس پروجیکٹ کے منصوبوں کا تعین کیا تھا لیکن جب 2013 کے انتخابات میں تخت لا ہور کے حکمرانوں نے اسلام آباد پر اقتدار پر سنبھالی تو روٹس میں تبدیلی کر نے کی کوشش کی ہر کوئی منصوبہ پنجاب کیلئے مختص کیا جا تا ہے اور پنجاب کے علاوہ کسی بھی صوبے کو ترقیاتی بنانے کا خواب بھی نہیں دیکھا جا رہا اور تمام منصوبوں کا مرکز لاہور ہے اسلام آباد پر حکمرانی کرنیوالے حکمران صرف لاہور کے نہیں بلکہ پاکستان کے حکمران ہے اور ریاست کے حکمران کے ناطے سب کو ساتھ لے کر چلے یہ منصوبہ عوامی نیشنل پارٹی اور پی پی کی کوششوں سے نہیں بلکہ چائنا نے اپنے پسماندہ علاقوں کو آباد کر نے کیلئے گوادر سے کاشغر تک مغربی روٹ کو چنا اور اپنے پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے کیلئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں کی بھی پسماندگی دور کرنے کیلئے بھی اقدامات اٹھاتے مگر ہمارے حکمرانوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی اور صرف تخت لاہور کو آباد کر نے کیلئے روٹس کا رخ موڑنے کی کوشش کی جس پر عوامی نیشنل پارٹی نے احتجاج شروع کر دیا اور اس منصوبے پر اسلام آباد میں اے پی سی منعقدکرائیں اور بعد میں وزراعظم میاں محمد نوازشریف نے اسلام آباد میں اے پی سی کا انعقاد کیا اور اس اے پی سی میں سیاسی جماعتوں اور عوام کے ساتھ وعدہ کیا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ پر کام شروع کیا جائیگا بعد میں وزیراعظم اپنے وعدے سے مکر گئے جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے کوئٹہ میں اے پی سی بلائی اور اسفند یار ولی خان کے ساتھ نوازشریف کی ملاقات کے بعد مغربی روٹ بنانے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا لیکن اس کے باوجود بھی وعدے پر عملدرآمد نہیں ہوا لاہور کے مفادات کے خاطر حکمران اس منصوبے کو ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ہم ریاست کو مانتے ہیں لیکن اپنے حقوق پر کسی بھی صورت سودا بازی کرنے کو تیار نہیں ہے اور ہمیں افغانیت کے نام پر حقوق نہیں دیا جا رہا اور ہم دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم افغان تھے افغان ہے اور افغان رہیں گے کسی کو بھی افغانیت پر شک نہیں ہونی چاہئے اور جائیدادوں میں بھی قوم افغان لکھا ہے مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین احمد مرحوم کے جائیداد کے کاغذات میں بھی افغان لکھا ہے عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ ہمسایوں کیساتھ عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن رہنا چاہئے افغانستان میں مداخلت کی وجہ سے آج حالات یہاں تک خراب ہو چکے ہیں کہ جو لوگ کابل کو فتح کر نے اور دہلی پر جھنڈا گاڑنے کا سوچ رہے تھے وہ اس میں ناکام ہو چکے ہیں اور اس کے شعلے اب اسلام آباد کی طرف رخ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم فوج پر الزام نہیں لگاتے فوج ہمار اہے اور فوج کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سی پیک کے مسئلے پر پشتون بلوچ اقوام کے تحفظات کا مداوا کریں انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے ایسا نہ ہو کہ ہم کوئی ایسا راستہ اختیارکرے جس کا پھر کوئی تصور نہیں کرے گا ہمیں جیلوں سے ڈرانے والے اس خواب میں نہ رہے کہ ہم جیلوں یا دھمکیوں سے ڈریں گے جس طرح ہم نے قربانیاں دی ہے کوئی بھی اس طرح قربانیوں کو تیار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح کالا باغ ڈیم کو کسی نہیں بنایا انہوں نے کہا ہے کہ مذہب اور قوم کے نام پر جن جماعتوں نے پشتون عوام کو دھوکہ دیا اب بیدار رہے۔