|

وقتِ اشاعت :   June 3 – 2016

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی ایک قومی جماعت ہے اور تمام بلوچ لیڈر شپ کے بارے میں ہمارا رویہ سیاسی اور مثبت ہے ہماری پارٹی کی واضح پالیسی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف جن سے سیاسی و نظریاتی اختلافات کیوں نہ ہوں انکے بارے میں رائے زنی نہ کریں بلوچستان کی ماضی کی لیڈرشپ کاانتہاء کی حد تک عزت کرنا اور انکی جدوجہد کے مثبت پہلووں کو اجاگر کرنا ہماری تنظیمی پالیسی کا حصہ رہا ہے سیاست میں میر غوث بخش بزنجو ،نواب خیر بخش مری ، سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب اکبر خان بگٹی کا اپنا ایک مقام و قدر و منزلت ہے ان قائدین میں زیادہ تر ابھی حیات نہیں ہیں سردار عطاء اللہ خان مینگل ہمارے قومی رہنما ہیں ان سے نہ پارٹی کا کوئی اختلاف ہے اور نہ کوئی مسئلہ ہے ہمارے بعض سیاسی تنظیمیں نیشنل پارٹی کے خلاف بعض اوقات ہرزہ سرائی کرتے ہوئے نظر آتی ہیں لیکن ہم انکو کبھی بھی اپنے سامنے رکاوٹ نہیں سمجھتے ہیں وہ کون لوگ ہیں ماضی میں وہ کیا تھے انہوں نے کیا رول ماضی میں ادا ک یا ہے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انکو یاد دہانی نہ کرائیں چونکہ بعض اوقات نام نہاد انقلابی تنظیمیں کچھ حد سے تجاوز کرتی ہیں تو مجبوراً ہمیں انہیں آئینہ دکھانا پڑتا ہے نیشنل پارٹی روزاول سے جمہوری و سیاسی حکمت عملی و جدوجہد کی قائل رہی ہے اس لئے ہم نے اپنی بات کی ہے جمہوری و سیاسی عمل و جدوجہد کسی رہنما کو ناگوار گزرتی ہے تو یہ انکا ذاتی معاملہ ہوگا یک بات تمام لیڈر شپ کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ کہ نیشنل پارٹی سیاسی کارکنوں کی جماعت ہے اور یہ سیاسی کارکن قومی حوالے سے بلوچ ہیں لہذا کوئی سردار و نواب ،یا سردارزادہ و نوبزادہ یا کوئی مسلح تنظیم اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ پارٹی کے کارکن کسی کی دھمکیوں سے مرعوب ہونگے پارٹی کارکن یہہ جانتے ہیں کہ سیاست بزدلوں کا کھیل نہیں ہے لہذا جو اپنے لئے بہترسمجھتے ہو اسی طرح نیشنل پاعرٹی کے کارکنوں کے بارے میں بھی اپنی رائے رکھوتاریخ کا جبر کہیں یا ستم ظریفی اس وقت بلوچستان میں موجود مسلح تنظیموں کی زیادہ تر قیادت اپنی پارلیمانی پرٹیکٹیس کرکے گئی ہے کوئی صاحب ،ممبر صوبائی اسمبلی و کابیہ میں وزیر رہا ہے تو کوئی جناب مشیر رہا ہے سب کے شب بلوچ قومی لیڈرشپ سے لیکر تاحال انکے پسماندگان وہ ضرور پارلیمنٹ میں رہے ہیں اب پارلیمنٹ میں انکا کیا کردار و عمل رہا ہے وہ سب کے سامنے موجود ہے رہی بات بلوچ مسلح تنظیموں میں اختلاف کی وہ بھی سب کے سامنے ہے وہ کیوں ایک نہیں ہوتے ہیں انکے سامنے رکاوٹ کون ہے کیونکر مشترکہ حکمت عملی نہیں اپناسکتے ہیں یہ ایک لمبی بحث ہے نیشنل پارٹی کی قیادت نے پوری سیاسی جدوجہد کی تاریخ میں کسی بھی رہنما کے خلاف بولنے میں پہل نہیں کی ہے اگر کوئی غیر ضروری بات نیشنل پارٹی کی لیڈرشپ کے بارے میں کہتا ہے تو اتنا حق ضرور نیشنل پارٹی کا بنتا ہے کہ انکو آئینہ دکھائے اوراسکا ماضی میں کیا کردار رہا ہے عوام کے سامنے لائے۔بلوچستان میں حیربیار مری کیا سیاست کرتا ہے زعمران مری و جاوید مینگل کیا کرتے ہیں اس سے ہمیں کبھی سروکار نہیں رہا ہے اور نیشنل پارٹی سیاست میں کبھی بھی افراد کو نہ زیر بحث لاتی ہے اور نہ یہ ہمارا طریقہ کار ہے نیشنل پارٹی کی اپنی سیاست ہے نیشنل پارٹی کی سوچ ہے کہ جمہوری و سیاسی حکمت عملی کے ذریعے بلوچ عوام کے قومی و سیاسی حقوق کا حصول ساحل و وسائل پر اسکے حق اختیار پر اختیار حاصل کیا جاسکتا ہے اور پاکستان کے دیگر مظلوم اقوام اور جمہوری و سیاسی قوتوں کے ساتھ ملکرقومی اختیار ،وسائل پراختیار ،معاشی وس یاسی و ثقافتی حقوق کیلئے جدوجہد کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے اس لئے ہم ان سیاسی شخصیات سے بھی یہی امید و توقع رکھتے ہیں کہ وہ نیشنل پارٹی کی لیڈرشپ کے ساتھ یہی رویہ اختیار کریں گے۔