|

وقتِ اشاعت :   June 5 – 2016

کچلاک : جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولاناعصمت اللہ نے کہاہے کہ مادیت پرستی کے مرض نے ملک کو تباہی کی نہج پرپہنچادیاہے اس وقت بحیثیت قوم ہمیں اجتماعی توبہ کرنے اوراسلامی نظام کے نفاذ کیلئے جدوجہد کی ضرورت ہے ،لروبر پشتون اور پنجاب سے بغاوت کرنے والوں نے ڈیورنڈ لائن تک کو قبول کرلیاہے ،علماء کے مابین اختلاف نہیں تو مذہبی قوتوں کی ایک دوسرے سے دوری کیسی ؟ان خیالات کااظہارانہوں نے کچلاک میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔مولاناعصمت اللہ کاکہناتھاکہ پانامہ لیکس حکمرانوں پر رب کاعذاب ہے جس کے متعلق میری ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ حقیقت پرمبنی ہے انہوں نے کہاکہ ویسے تو ہمارا آئین اوردستور اسلامی ہے مگر اس کے باوجود اس پر کسی قسم کاعمل ہوتادکھائی نہیں دے رہا جس کی وجہ سے ہم عذاب الہٰی میں مبتلا ہے انہوں نے کہاکہ ملک اقتصادی طور پر تباہ حال ہے اسی لئے تو 70فیصد لوگ غربت کی لکھیرکے نیچے زندگی بسرکررہے ہیں المیہ یہ ہے کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے ووٹ لینے والے خود ڈاکو بن چکے ہیں عوام نے انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیگر کے خاتمے کیلئے ووٹ دیاتھا مگر اس وقت حکمران اجتماعی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات کے حصول میں جڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ سیاست دراصل اصلاح کانام ہے مگر یہاں ا سے فساد بنادیاگیاہے ،سیکورٹی اداروں پر 80فیصد بجٹ خرچ کی جارہی ہے مگر اس کے باوجود بھی ہمیں درپیش امن وامان کی صورتحال جسے میں عذاب الہٰی سے تعبیر کرتاہوں میں بہتری نظر نہیں آرہی بلکہ ملک میں اب بھی طاغوتی نظام مسلط ہے ان کاکہناتھاکہ مادیت پرستی کے مرض نے ملک کوتباہی سے دوچار کردیاہے اسلئے ملک وقوم پر نازل عذاب الہٰی سے چھٹکارا کیلئے ہم سب کو مل کر اجتماعی توبہ کرناہوگا اوریہاں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے کرداراداکرنا ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں حقیقی تبدیلی شرعی نظام کے نفاذ سے آئیگی ۔انہوں نے کہاکہ قوم پرستوں اور مذہبی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں لیکن لروبر پشتون اورپنجاب سے بغاوت کرنے والے ڈیورنڈ لائن کوقبل کرچکے ہیں انہوں نے کہاکہ اسلام کاقلعہ پاکستان شائد اب اسلام کا قبرستان بنتاجارہاہے ،قوم پرستوں نے دنیااپناایجنڈا چھوڑ کر ملک کی تعمیر وترقی کافیصلہ کیاہے تو پھر مذہبی جماعتیں ان سے کسی قسم کااختلاف نہیں رکھتی ۔مولاناعصمت اللہ نے شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیقی عمل کے حکومتی فیصلے کوبھی تنقید کانشانہ بنایا اورکہاکہ ملک میں نئی پالیسیاں تو بنائی جاتی ہے مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بگاڑ پیداہوتا ہے ،افغان مہاجرین کو شناختی کارڈز کااجراء عوام نے نہیں بلکہ نادرا ادارے نے کی ہے مگر اس کانزلہ عام عوام پر گرایاجارہاہے جو ہمیں قابل قبول نہیں ہم افغان مہاجرین کے عزت کے ساتھ واپسی کے حق میں ہے انہیں بے عزت کر نکالنے کاکسی کو حق نہیں وہ پرامن طور پر یہاں رہ رہے ہیں ۔