|

وقتِ اشاعت :   June 8 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر بلوچستان کی تعلیمی دانش گاہوں اور تعلیمی سرگرمیوں میں خلل ڈالنا قابل مذمت ہے وڈھ میں یونیورسٹی کے قیام میں روڑے اٹکانا قابل مذمت ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیثیت گورنر انہیں غیر جانبدار ہونا چاہئے تھا لیکن وڈھ میں یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے جو اعتراضات ان کی جانب سے لگائے جا رہے ہیں وہ غیر قانونی اور علم دشمن اقدامات کے مترادف ہے پارٹی کے مرکزی قائد سردار اختر جان مینگل نے وڈھ میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے 100ایکڑ زمین بغیر معاوضہ مختص کیا لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی کے قیام میں رکاوٹیں ڈالنا کسی بھی صورت درست اقدام نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لسانی جماعت سے تعلق رکھنے والے گورنر بلوچستان نے میر چاکر رند یونیورسٹی سبی کے قیام میں اسی طریقہ کا رویہ اپنایا اب وڈھ یونیورسٹی کے قیام میں ایسی روش ناقابل برداشت ہے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے کسی قسم کا اعتراض نہیں لگایا گیا کیمپس کے قیام کے بعد کلاسز کو بھی شروع کرنے کے اقدامات کر دیئے گئے تھے لیکن بلاجواز اعتراض کرنا اور پورے بلوچ علاقوں میں تعلیمی اداروں ‘ دانش گاہوں کے قیام کے حوالے سے ان کی پارٹی اور ان کا رویہ باعث تشویش ہے حالانکہ 18ویں ترمیم کے بعد دانش گاہوں کے امور وزیراعلیٰ چلائیں گے تین صوبوں میں تمام امور وزراء اعلیٰ چلا رہے ہیں مگر بلوچستان میں گورنر بلوچستان ان اختیارات کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جو غیر آئینی اقدامات ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یونیورسٹیز کے تمام اختیارات وزیراعلیٰ بلوچستان کے پاس ہوتے بلوچستان میں جنہوں نے تعلیمی ایمر کے بلند و بالا دعوے کئے اور تعلیم کو تباہی کی جانے دھکیلنے سے گریز نہیں کیا بلوچستان میں اگر سبی ‘ وڈھ میں یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تو اس میں کوئی قباعت نہیں تھی فوری طور پر گورنر بلوچستان غیر آئینی اقدامات سے گریز کریں اور یونیورسٹیز کے امور جو آئینی طور پر صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے پاس ہیں وہ انہیں چلائیں وڈھ اور سبی یونیورسٹی کے قیام کے میں رکاوٹیں برداشت نہیں کی جائے گی ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ہائر ایجوکیشن کے مکمل تعاون کے باوجود اعتراض لگانا کسی بھی صورت درس اقدام نہیں بلوچستان کا ہر ذی شعور شہری جانتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا رویہ معتصبانہ ہے بلوچستان میں تعلیمی ایمر جنسی نہیں ہے دانش گاہوں میں میرٹ کے برعکس فیصلے کئے جا رہے ہیں اور جونیئر کو سینئر پر ترجیح دی جا رہی ہے جو میرٹ کی سراسر پامالی ہے ۔ موجودہ حکمرانوں نے تو تمام ناانصافیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔