|

وقتِ اشاعت :   June 11 – 2016

کراچی،لندن : کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے لنڈی کوتل میں مسجد کی چھت گرنے سے 6افراد شہید جبکہ 22افراد زخمی ہوگئے۔متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے،وزیر اعظم نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور غم کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، وزیر اعظم نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے ۔تفصیلات کے مطابق لنڈی کوتل چورنگی کے قریب مسجد عثمان غنی زیر تعمیر تھی جس کی عمارت دو حصوں پر مشتمل ہے اور ان کے درمیان ایک صحن موجود ہے۔ رمضان المبارک کا پہلا جمعہ ہونے کے باعث کثیر تعداد میں نمازی مسجد میں موجود تھے اور ان کی سہولت کیلئے اسی صحن میں عارضی چھت (شیڈ) سٹینڈ کے ذریعے لگائی گئی تھی جو دوران نماز گر گئی جس کے نتیجے میں6 افراد شہید جبکہ 22نمازی زخمی ہو گئے۔ مسجد میں 500 نمازیوں کی گنجائش ہے جن میں سے متعدد مسجد کے صحن کے علاوہ اس کی چھت پر بھی موجود تھے۔ چھت گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور دیگر امدادی کارکن موقع پر پہنچ گئے۔ نمازیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا ، نمازیوں کا کہنا ہے کہ نماز کی ادائیگی کے دوران اچانک چھت دھماکے سے گرگئی جس سے ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ حادثے کے بعد زخمیوں اور میتوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہسپتال طلب کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کمشنر کراچی سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حادثے کے بعد رینجرز اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا ، نمازیوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت مسجد میں نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی کہ اسی دوران اچانک چھت نیچے آگری اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔