کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی ایگزیکٹو کا اجلاس صوبائی صدر سینیٹرمحمد عثمان خان کاکڑ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مختلف امور اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور مختلف فیصلے کےئے گئے ۔ اجلاس کے جاری کردہ بیان میں لاء کالج کوئٹہ کے پرنسپل بیرسٹر امان اللہ خان اچکزئی شہید کی شہادت کو پشتون دشمن و عوام دشمن سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے حکومت متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ امان اللہ خان شہید کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں قرار واقعی سزا دینے اور اس سازش کو لازمی طور پرطشت ازبام کیا جائے اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی وزیر سردار مصطفی خان ترین کے فرزند اسد خان ترین کی بحفاظت بازیابی اور ان کے اغواء میں ملوث ملزموں کی گرفتاری قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور متعلقہ ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے ۔ لہٰذا تمام صوبے بالخصوص کوئٹہ ، پشین اورچمن میں ایسے عوام دشمن واقعات کی روک تھام کیلئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے اپنے تمام صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے تمام عوام دشمن اور شرپسند عناصر کی سرکوبی کرنی ہوگی۔بیان میں نادراکے ڈی جی کی جانب سے پارٹی کے وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی کیخلاف غیر قانونی خط لکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پشتون عوام کیخلاف جاری سازشوں کا حصہ سمجھتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی نادرا کی غیر قانونی اور شرانگیزی پر مبنی خط درحقیقت تمام پشتون عوام بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے عوام کے خلاف جاری سازشوں کو تقویت دینے اور پشتون عوام کے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی بنیادوں پر بلاک شناختی کارڈوں کی بحالی میں مزید رکاوٹیں ڈالنے کی ناکام کوشش تھی۔جب کہ پشتون غیور ملت اپنے اور اپنے نمائندوں کیخلاف ایسی سازشوں کو ناکام بنانے اور ان کے خلاف ڈٹ جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور پشتونخوامیپ ڈی جی نادرا اور ان کے مخصوص افیسروں کی بدنیتی وتعصب اور کرپشن ولوٹ مار کو چھپانے کی ناکام کوششوں کو ہر سطح پر اشکارہ کرتے ہوئے ان کیخلاف بھرپور جمہوری احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے ۔ بیان میں وفاقی بجٹ میں جنوبی پشتونخوا کیلئے کم حصہ رکھنے اور بنیادی و بڑے پروجیکٹ کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی جمہوری حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ جمہوری دور میں بھی جنوبی پشتونخوا کے تمام علاقوں اور عوام کو مسلسل نظر انداز کرنے کا مقصد ہمیں تیسرے درجے کے شہری سمجھ کر رکھا گیا ہے ۔ جبکہ پشتون غیور ملت کی اس ملک میں آئینی طور پر بجٹ میں اپنا حصہ اور حق بنتا ہے جبکہ ملک کے وفاقی بجٹ میں پشتونخوا وطن کے مختلف وسائل اور محصولات سے سالانہ کھربوں روپے ملکی خزانے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جبکہ بجٹ میں اس کی تقسیم کے موقع پر پشتونخوا وطن بالخصوص جنوبی پشتونخوا ، فاٹا جیسے علاقوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے جو ناقابل برداشت ہے ۔بیان میں سی پیک منصوبے کے مغربی روٹ یعنی گوادر ، خضدار ، مستونگ ، کوئٹہ ، ژوب ، ڈیرہ اسماعیل خان کے موٹر وے ، ریلوے لائن ، اندسٹریل زون ، انرجی پروجیکٹ سمیت ان کے تمام منصوبوں کو موجودہ وفاقی بجٹ میں نظر انداز کرنے کا مقصد مغربی روٹ کے منصوبے کو شعوری سازش کے ذریعے پشتون ، بلوچ عوام کو اس منصوبے کے ثمرات سے محروم کرنا ہے ۔کیونکہ درج بالا مغربی روٹ کیلئے موجودہ وفاقی بجٹ میں بھی رقم مختص نہ کرنے کا مقصد ملک کے تمام سیاسی جمہوری قوتوں کے نمائندہ اجلاس کے فیصلوں سے انحراف ہے۔ جبکہ ملک کی تمام سیاسی جمہوری نمائندہ قوتوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق مغربی روٹ کے لئے فوری طور پر فنڈز مختص کرنا اور اس پر کام شروع کرنا ہی موجودہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔