|

وقتِ اشاعت :   June 13 – 2016

کوئٹہ: سابق سینیٹر نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہاہے کہ ہماری اجتماعی افتاد کاالمناک پہلو یہ ہے کہ قومی حقوق کی دعویدار سیاسی جماعتیں ستم رسیدہ عوام کی سیاسی ونظریاتی تربیت کی اہمیت وافادیت سے بے گانہ رہ کر اقتدار تک رسائی کو بڑا مقصد بنایاجاسکافائدہ اٹھا کر طالعے آزما اور بدعنوان عناصر سیاست مین گھس بیٹھے جن کی بداعمالیوں کے باعث عوام مایوس اور سیاست بد نام ہورہی ہے ماضی کی سیاسی قیادت کی نظریاتی پختگی اور بے لوث کردار سے ناقابل فراموش کامیابیاں ملیں لیکن بدقسمتی سے ہم اپنے اسلاف کے تاریخی کردار کے تسلسل کوبرقرار رکھنے میں ناکام رہے آج جبکہ بلوچستان اور اس کے عوام انتہائی ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچارہیں لیکن سیاسی جماعتیں درپیش صورتحال کے تناظر میں عوام کو دوست سیاسی سمت دینے میں بری طرح ناکام نظرآتی ہیں بنیادی وجہ یہ ہے کہ مروجہ سیاست میں عوامی طاقت پر انحصار کرنے کی بجائے چاپلوس اور ابن الوقت عناصر کو سیاسی جماعتوں کی پذیرآئی ملی جو نتائج کے اعتبار سے مایوس کن ہے وقت اورحالات کاتقاضا ہے کہ حقوق کے حصول کی سیاسی اور پرامن جدوجہد پریقین رکھنے والی جماعتیں خود اپنی خامیوں ،غلطیوں ،کمزوریوں اور غفلتوں سے نتائج اخذ کرنے پر توجہ دیں ایک پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے قوم کی حالت زار میں سدھار لانے کی فکر کریں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ذمہ دار سیاسی جماعتیں درپیش معروضی حالات سے مطابقت رکھنے والا سیاسی رویہ اختیار کرکے تلخی ایام کامقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونگی اس وقت قوم اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزررہی ہے جس کا احساس کیاجانا ناگزیر ہے۔