اسلام آباد : بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے مطالبہ کیا کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے متعلقہ فریقین کے خدشات دور کئے جائیں ٗ بجلی کی پیداوار کا 300 میگاواٹ کا منصوبہ گوادر میں شروع کیا جائے گا جبکہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس میں کئے گئے فیصلوں پر مکمل عمل ہوگا‘ پی ایس ڈی پی میں ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن کے لئے 22 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘ سندھ کو نظرانداز کرنے کا تاثر درست نہیں۔ بدھ کو سینٹ میں اقتصادی راہداری سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ بجلی کی پیداوار کا 300 میگاواٹ کا منصوبہ گوادر میں شروع کیا جائے گا‘ مغربی روٹ کے ساتھ ریلوے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ اقتصادی راہداری کے حوالے سے متعلقہ فریقین کے خدشات دور کئے جائیں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بنیادی ضروریات پوری کی جائیں۔ سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے حوالے سے جو بھی وعدے کئے گئے ہیں وہ پورے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر خان نے کہا کہ 46 ارب روپے کی سرمایہ کاری بہت بڑی سرمایہ کاری ہے‘ متنازعہ معاملات کو اچھالنے کی بجائے افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ عالمی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے،متنازعہ معاملات اچھالنے کی بجائے افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں جو فیصلے کئے گئے تھے حکومت ان پر عمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ نفرتیں پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اس سے معاملات مزید الجھیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے‘ اس منصوبے کے حوالے سے تحفظات دور کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اس پر منفی تنقید سے گریز کیا جانا چاہیے لیکن چاروں اکائیوں کے اس منصوبے کے حوالے سے تحفظات ہیں، یہ تحفظات دور کئے جائیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ تربت سے گوادر تک دو رویہ سڑک بھاری ٹریفک کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی‘ ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن میں خیبر پختونخوا کا زیادہ علاقہ شامل کیا جائے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے سے پورے ملک کو مستفید کرنے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ مغربی روٹ کو متنازعہ نہ بنایا جائے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ مغربی روٹ کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔ سندھ کو بھی اقتصادی راہداری میں ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کے لئے اہمیت کا حامل ہے لیکن چاروں اکائیوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لے کر فیصلے کئے جائیں۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے لئے بجٹ میں کم فنڈز رکھے گئے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اہم منصوبہ ہے۔ وفاق کے لئے سب کو قربانی دینا ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سعید الحسن مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں، مغربی روٹ پر واقع علاقوں کو بھی وہی سہولیات ملنی چاہئیں جیسی مشرقی روٹ کو دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر گیان چند نے کہا کہ سی پیک کو متنازعہ بنایا جارہا ہے‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے منصوبے پہلے مکمل کئے جائیں سینیٹر گیان چند نے کہا کہ مغربی روٹ مختصر راستہ ہے، ملک ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مفاد میں جو منصوبے ہیں انہیں پہلے مکمل کیا جائے۔اقتصادی راہداری سے متعلق سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے کمیٹی کی رپورٹ میں جو معاملات اٹھائے گئے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ صوبائی حکومتیں بھی وفاقی اکائی کا حصہ ہیں‘ بلوچستان کی حکومت خیبر پختونخوا کی حکومت بھی اقتصادی راہداری پر اعتماد کا اظہار کرچکی ہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوامی نمائندوں کو ہم نے مطمئن کیا ہے۔ انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کے تحفظات دور کردیئے گئے ہیں۔ اگر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں اعتماد کا اظہار کر چکی ہیں تو کس طرح یہ منصوبہ متنازعہ بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ پی ایس ڈی پی میں مغربی روٹ کے لئے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں‘ جس رکن نے یہ دعویٰ کیا ہے انہیں اپنی غلط بیان پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن کا وزیراعظم سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں اس کے لئے بجٹ میں 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حویلیاں تھاکوٹ سیکشن کے لئے 17 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ملتان سکھر روٹ کے لئے 19 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس سے زیادہ ترجیحی اور کیا دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن کو جون 2018ء تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈس ہائی وے کے لئے پانچ ارب چالیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ژوب سے مغل کوٹ سیکشن کے لئے تین ارب روپے سے زائد زائد‘ ڈیرہ اسماعیل خان مغل کوٹ سیکشن کے لئے بھی ایک ارب روپے سے زائد مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال دسمبر سے گوادر سے کوئٹہ تک ٹریفک شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن اپنے وسائل سے بنا رہے ہیں۔ چین نے اس پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ گوادر میں بڑے جہازوں کے لئے رن وے بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 35 ارب ڈالر کی توانائی کی سرمایہ کاری میں گیارہ ارب ڈالر کا سندھ اور نو ارب ڈالر کا بلوچستان کا حصہ ہے۔ اس اہم معاملے پر ہمیں سیاست نہیں کرنی چاہیے۔