|

وقتِ اشاعت :   June 22 – 2016

کراچی : پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے چئیرمین عارف الٰہی اور ڈائریکٹر بریگیڈئیر راشد صدیقی نے وفاقی وزیر جہاز رانی و بندر گاہ جات میر حاصل خان بزنجو کاپی این ایس سی میں استقبال کرتے ہوئے ایک بریفنگ دی جس میں پی این ایس سی کا بنیادی ڈھانچہ، کارپوریٹ گورننس، ترقیاتی منصوبوں اور حائل مشکلات کے بارے میں تفصیلات دیں۔دریں اثناء وفاقی وزیر کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تعارف کراتے ہوئے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا جس پر سرکاری نگراں کمیٹی کی تجاویز میں نرم ترامیم کی سفارش کی تاکہ پی این ایس سی کو نئے جہازوں کی خریداری میں حائل مشکلات عبور کر کے پاکستان کی قومی معیشت کے لئے پی این ایس سی کو مزید منافع بخش کردار ادا کرنے کی تحریک ملے۔ انہوں نے بتایا کہ پی این ایس سی اِس وقت دنیا ئے جہاز رانی میں سب سے کم عمر جہازوں کی مالک ہے۔ جس کی وجہ سے مزید 19سال یہ جہاز منافع کماتے رہینگے جبکہ پچھلے سال کی بہ نسبت 19فیصدسے 31فیصد تک اوسط منافع میں اضافہ دیا ہے۔وہ بھی اس وقت جب تمام جہازی ادارے نقصان میں جارہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاں کے بورڈ کو بولڈ ہونا پڑے گاتاکہ اُن کے فیصلوں اور انتظامیہ کی محنتوں سے پاکستان کو مزید زرمبادلہ حاصل ہوسکے۔ چیئرمین نے بتایا کہ قدرے فری ہینڈ مل جانے پر مزید زرمبادلہ کمانے کی امید ہے۔اس سے قبل وفاقی وزیر برائے جہاز رانی و بندرگاہیں میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز کی تحقیقات کیلئے بننے والے کمیشن کے ٹی او آرز کے حتمی نتائج تک پہنچنے کیلئے اپوزیشن سنجیدہ نہیں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے دن سے معلوم ہے کہ اپوزیشن ٹی او آرز کے معاملے پر سنجیدہ نہیں، ا پوزیشن رہنما شاہ محمود قریشی اور اعتزاز احسن کے بیانات اس بات کی توثیق کرتے ہیں ٗ میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات اور ان کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ معاملے کے حل میں سنجیدہ نہیں ہیں کیونکہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی میٹنگز کے بعد شاہ محمود قریشی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ معاملہ ختم ہی ہو گیا ہے ٗ اعتزاز احسن ان میٹنگز کو صرف رسمی کارروائی قرار دیتے آئے ہیں جو درست نہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ معاملے کے حل کیلئے سنجیدگی دکھائیں تاکہ معاملے کو جلد سے جلد حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی نہیں کہا کہ احتساب نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکومت کا تو موقف رہا ہے کہ احتساب بلاتفریق ہونا چاہیے، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کے خاندان کا احتساب نہ کریں لیکن دوسروں کا بھی تو احتساب ہونا چاہیے، انکا کیوں نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت پاناما پیپرز کے معاملے پر پہلے دن سے کلیئر ہے اور واضح اور جامع احتساب کی حامی ہے لیکن اپوزیشن سنجیدہ ہی نہیں اور وہ سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر چکی ہے تاکہ بلاوجہ وزیراعظم کو بدنام کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت احتساب سے نہیں بھاگ رہی بلکہ صاف شفاف احتساب چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومتی ارکان کا رویہ بھی مثبت رہا ہے۔ میر حاصل خان بزنجو کا کہنا تھا کہ حکومت تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے لہذا اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ احتجاجی سیاست ترک کر کے تمام معاملات پارلیمنٹ جیسے اہم فورم پر بات چیت کے ذریعے حل کرے جو کہ بہترین ذریعہ بھی ہے۔