کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں تمام شعبوں میں برابری کی بنیاد پر فنڈز مختص کئے گئے ہیں جبکہ اپوزیشن اراکین نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں اپوزیشن کے حلقوں کو نظرانداز کیا گیا ہے جس کی ہم مذمت کر تے ہیں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں مجموعی بجٹ پر بحث کر تے ہوئے نواب محمد خان شاہوانی ، سردار رضا خان بڑیچ ، سردار عبدالرحمان کھیتران،آغا سید رضا،مجید اچکزئی، محمد خان لہڑی،معصومہ حیات، ڈاکٹر شمع اسحاق، ڈاکٹر رقیہ ہاشمی ، کشورجتک اور ثمینہ خان نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں حکومت نے جس طرح برابری کی بنیاد پر تمام علاقوں کیلئے فنڈز فراہم کیا ہے یہ ہمارے لئے قابل تحسین ہے اور موجودہ حکومت صوبے کی ترقی وخوشحالی اور عوام کو روزگار مہیاکرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور امن وامان کیلئے جتنا بڑا رقم مختص کیا گیا ہے وہ بھی صوبے میں امن وامان کیلئے بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کااس وقت سب سے بڑا مسئلہ دیہی علاقوں سے آبادی شہر کی طرف بڑھنا ہے کیونکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کے مستقبل بہتر بنا نے اور اچھے سہولیات کیلئے کوئٹہ کا رخ کر تے ہیں انہوں نے کہاکہ جب آبادی بڑھتی ہے تو جرائم اور کرائم کی واقعات شروع ہو جا تے ہیں انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنا نے کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کیا جائے تاکہ ہمارے سیکورٹی فورسز کے ادارے عوام کو صحیح معنوں تحفظ فراہم کر سکے انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں مزید بہتری لانے کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد موجودہ حکومت نے سب سے اچھا بجٹ دیدیا امن وامان کے حوالے سے ہم سب ایک پیج پر ہے ایف سی کو صرف امن وامان کی خاطر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پولیس کے اختیارات دیئے ہیں فوج سمیت دیگر ادارے تجاویز دے سکتے ہیں لیکن فیصلہ کر نا پارلیمنٹ کا کام کسی کو بجٹ پر نظرانداز نہیں ہونے دینگے ہم اس وقت ایک لڑائی لڑ رہے ہیں دہشتگردوں کیخلاف کارروائی جاری ہے اور کسی بھی دہشتگرد کو معاف نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہونگے حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتیں دہشتگردی کیخلاف متحد ہے اس وقت بلوچستان میں جو لہر آئی ہے جس طر ح مصطفی خان ترین کے بیٹے کا اغواء ، امان اللہ اچکزئی کی ٹارگٹ کلنگ اور عالمو چوک پر دھماکہ رونما ہوا ہے اس کی ہم مذمت کر تے ہیں اور اس طرح واقعات کی روک تھام کیلئے سب کو اپنا کردارادا کر نا ہو گا صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالی تو بلوچستان کے گیارہ اضلاع میں غیر معمولی صورتحال تھی اور دہشتگردوں نے عوام کو خوفزدہ کر رکھا تھا اور انتخابات کے دوران ہم کو واجب الاقتل قرار دیئے تھے لیکن ان تمام تر حالات کے باوجود چیلنج کو قبول کیا تھا کسی بھی سیاسی کارکن کو دیوار لگانے سے گریز کیا جائے ماضی میں لوگ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھے کالعدم تنظیموں اور دہشتگردوں کو فنڈنگ کر رہے تھے پنجگور میں سڑکوں کے نام پر فنڈز لے کر کالعدم تنظیموں کو دیا جا تا تھا انہوں نے کہا کہ ماضی میں تمام سرکاری ہسپتال کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے تھے لیکن موجودہ حکومت نے تمام سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو بنیاد سہولیات فراہم کر دیئے اور اب ہسپتال میں مریضوں کا صحیح علاج کیا جا تا ہے ۔ مشیر وزیر اعلیٰ عبیداللہ بابت نے کہا کہ تمام شاہراہیں تین سال کے دوران محفوظ رہے اب ایک ذہن دہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں انہوں نے وفاقی بجٹ پر تنقید کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ 44 کھرب روپے میں بلوچستان کو کیا ملا ہے پھر کہتے ہیں کہ لوگ ناراض ہو گئے بنگالی سب سے زیادہ محب وطن رہے ہمیں غدار کہنے والے یہ بات ذہن نیشن کر لیں کہ کسی کے سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے ایسے پاکستان کو نہیں مانیں گے کہ پشتونوں کا شناختی کارڈ چیک ہو گا اور باقی کسی کا چیک نہیں ہو گا اب مردم شماری کیوں نہیں ہو رہی ہے 1998 میں اگر پشتونخوامیپ نے مردم شماری کا بائیکاٹ کیا تھا اس میں بھی پشتونوں کا فائدہ تھا سردار اختر مینگل اپنا رویہ پشتونوں کے بارے میں ٹھیک کریں ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں کوئی بھی پشتون ان کو ووٹ نہ دے بلوچ پشتون آپس میں بھائی ہے ان کو لڑانے کی سازش کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہو نے دینگے مغربی روٹ کیلئے وفاقی حکومت نے ایک بھی روپیہ مختص نہیں کیا ہے اور روٹ باتوں سے نہیں بلکہ فنڈ دینے سے بنتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ مغربی روٹ کیلئے فوری طور پر فنڈز مختص کئے جائے انہو ں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کی جانیوالی بجٹ پر اپوزیشن کے پاس تنقید کا کوئی جواز باقی نہیں رہا بجٹ پر بحث کر تے ہوئے