|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2016

کوئٹہ : گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام خوش آئند ہے لیکن محض عمارات کی تعمیر اور اداروں کے قیام سے فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس پورے خطے میں گذشتہ کئی عشروں سے یونیورسٹیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن ان میں سے بیشترکا قابل ذکر کردار نہیں ہے اور بین الاقوامی سطح پر ان کی ڈگریوں کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ وہ منگل کے روز بولان میڈیکل ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سید محمد سلیم کی قیادت میں ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے گفتگو کررہے تھے۔ وفد پروفیسر ڈاکٹر نائلہ احسان، پروفیسر ڈاکٹر شمس آغا، پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ جبین، پروفیسر نصراللہ مینگل، پروفیسر حبیب اللہ بابر او رڈاکٹر خلیل پر مشتمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ طب کا شعبہ انسانی زندگی سے منسلک ہے اور اس شعبے سے متعلق ڈاکٹروں خاص طور سے تدریس سے وابستہ افراد پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس پیشہ کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اس کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ وتوانائی دکھی انسانیت کی خدمت پر مرکوز کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ صوبے میں ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ڈاکٹروں نے اپنے شعبہ میں اعلیٰ اسناد بھی حاصل کی ہیں اس کے باوجود یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ صحت کی سہولتوں کی فراہمی کی صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔ گورنر نے پرائیویٹ کلینک اور ہسپتالوں کے قیام سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کم ہوجاتا ہے اور منطقی طور پر اس کی کارکردگی بہتر ہونی چاہئے لیکن افسوس کہ صورتحال اس کے برعکس ہے کیونکہ عام طور پر سرکاری ہسپتالوں میں فرائض انجام دینے والے ڈاکٹرز ہی شام کو پرائیویٹ کلینک چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینئر ڈاکٹرز اور خاص طور سے اساتذہ صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اس مقصد کے لئے پیشے سے وابستگی، اوقات کار کی پابندی اور فرائض کی ادائیگی میں باقاعدگی کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ا نہوں نے کہا کہ معاشرے میں صحت وصفائی کے نظام کوبہتر بنانے کے لئے انتظامی اور حکومتی اقدامات کے علاوہ پرائمری سطح پر بچوں میں حفظان صحت کا شعور وبیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے گورنر نے کہا کہ اس بات کا اعتراف ہر شخص کرتا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا علاج سے زیادہ اہم ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس پر عملدرآمد بھی کریں۔ وفد نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ بولان میڈیکل کالج کو فوری طور پر یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے کیونکہ اگر اکتوبر 2016ء تک یونیورسٹی کا درجہ نہ مل سکا تو بین الاقوامی سطح پر کالج اور اس کی ڈگری کو تسلیم کیا جانا بند ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ حکومت نے ان کی کوششوں کے نتیجے میں آرڈیننس تیار کیا تھا لیکن حکومت کے ختم ہوجانے کے باعث اس کی منظوری اور اجراء نہ ہوسکا۔ گورنر بلوچستان نے بی ایم سی کو میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دلوانے کے لئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔