|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2016

کوئٹہ+اندرون بلوچستان: کوئٹہ میں سیلابی ریلے میں بہنے والے شخص کی لاش چوبیس گھنٹے بعد مل ایئر پورٹ کے قریب سے مل گئی ۔ضلع بولان (کچھی )میں سیلابی ریلے نے تباہی مچادی۔سو سے زائد مکانات زیر آب آگئے جس میں سے بیشتر مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ قلات اور لسبیلہ میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں کے دوران سبی63، قلات08، ژوب03اورخضدار04 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کوئٹہ میں گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش کے دوران ہدہ کے مقام پر سیلابی نالے میں ریلے میں بائیس سالہ امجد بہہ کر لاپتہ ہوگیا تھا۔ منگل کی صبح خیزی کے قریب ایئر پورٹ کی حفاظت کیلئے بنائی گئی چوکی پر تعینات اہلکاروں نے سیلابی نالے میں ایک لاش دیکھی اور تھانہ ایئر پورٹ کے عملے کو مطلع کیا۔ پولیس نے لاش نکال کر سول اسپتال پہنچائی جہاں اس کی شناخت امجد کے نام سے ہوئی جو ہدہ کے رہائشی تھا۔ اس طرح کوئٹہ میں دو روز کے دوران بارشوں سے ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد چار ہوگئی۔ ادھر بلوچستان کے بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلا نشیبی علاقوں میں آگیا۔ دریائے ناڑی میں طغیانی کے باعث سیلابی ریلہ تحصیل بھاگ کے علاقے گوٹھ فتوانی میں داخل ہوگیاجس سے سو سے زائد مکانات زیر آب آگئے۔ اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں مقامی انتظامیہ نے لو گوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ علاقے کے مکین ضروری سامان اور مال مویشی بھی اپنے ہمراہ محفوظ مقامات پر پہنچاچکے ہیں۔پی ڈی ایم اے ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے سے کئی کچے مکانات گر چکے ہیں کئی کو نقصان پہنچا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مقامی انتظامیہ کی مدد سے متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کی جارہا ہے۔ نصیرآباد ڈویژن کے بقای علاقوں میں موسم ابر آلود رہا ۔ جبکہ ضلع لسبیلہ میں موسلا دھار بارش ہوئی ۔ حب، لاکھڑا، اوتھل، وندر، بیلہ، گاڈانی ، لیاری ، کنراج اور دیگر علاقوں میں بارشوں کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔ وندر کے مقام پر سیلابی ریلے میں دو افراد پھنس گئے جنہیں تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد مقامی خوطہ خوروں نے زندہ بچالیا۔بارشوں کے بعد حب ڈیم میں بھی پانی جمع ہونا شروع ہوگیا۔ اسی طرح قلات میں طوفانی بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔ قلات سے فیض نیچاری کی رپورٹ کے مطابق قلات میں صبح سے بادل چھائے رہے جبکہ دوپہر کے وقت شہر میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی جس کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا ۔جبکہ قلات کے دیگر علاقوں لہڑ،ہادر کش،کاٹیلی،گرانی ،پندران،ہربوئی ،سرخین ،پندران کش ،امیری ،کڑیاچ سمیت کئی دیہی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث بندات اور سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئے اور کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔اور سیلابی ریلوں کے باعث قلات سے زہری،کاٹیلی ،لہڑ امیری سمیت کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا اور کئی گاڑیاں گھنٹوں تک سیلابی ریلوں اور سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے پھنس گئیں جبکہ مسافر وں اور ٹرانسپورٹرز نے اپنی مدد آپ کے تحت بمشکل راستہ نکال کر سفر طے کئے ۔عوامی حلقوں اور ٹرانسپورٹر زنے ڈی سی قلات و دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ قلات سے پندران،نیچارہ ،لہڑ و دیگر دہویہی علاقوں کے سڑکوں کی حالت زار کا نوٹس لیکر ہنگامی بنیادوں پر بحال کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔