اسلام آباد : وزیراعظم محمد نواز شریف نے لندن سے پاکستانی حکام کو افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کی مدت میں توسیع دیدی ہے تاہم مدت کے تعین کا حتمی فیصلہ کابینہ کے اجلاس میں کیا جائیگا افغان مہاجرین کے پاکستان میں کارڈ کی مدت 30 جون کو ختم ہو رہی ہے، افغان سفیر عمر زاخیل وال نے این این آئی کو بتایا کہ پاکستانی وزیراعظم نے بدھ کو لندن سے پاکستانی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اس فیصلے سے اب مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے دونوں ممالک اور بین الاقوامی برادری کیساتھ بنیادی فیصلے ہونے چاہئیں ، افغان سفیر نے بدھ کو اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، افغان سفیر نے کہا کہ ملاقاتوں میں انہوں نے خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کیساتھ پولیس کے مبینہ ناروا رویئے کے حوالے سے بات چیت کی،علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کے لئے نئی پالیسی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ افغان مہاجرین کے متعلق نئی پالیسی آنے تک ان کو گرفتار اور ہراساں نہ کیا جائے،مہاجرین کے قیام میں توسیع کی سمری گزشتہ کئی ماہ سے کابینہ کے پاس زیر التواء ہے ،‘ افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کے لئے اقوام متحدہ کا شدید دباؤ ہے، خیبرپختونخواہ حکومت نے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کی مخالفت کررکھی ہے، پاکستان میں موجود 15لاکھ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت (آج) 30جون کو ختم ہوجائے ۔ ذرائع کے مطابق وزارت سیفران کی طرف سے تمام صوبوں کو خط لکھا گیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ افغان مہاجرین کے قیام سے متعلق نئی پالیسی آنے تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ پکڑ دھکڑ اور گرفتاریوں کا سلسلہ روکا جائے۔ صوبائی حکومتیں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے حوالے سے متعلقہ محکموں کو بھی ہدائت جاری کریں ۔خط میں کہا گیا کہ مہاجرین کے قیام میں توسیع سے متعلق سمری کابینہ ڈویژن کے پاس زیر التواء ہے۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے تک صوبے افغان مہاجرین کے خلاف ایکشن نہ لیں بلکہ کابینہ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر کی طرف سے پاکستان پر مہاجرین کے قیام کی توسیع کے لئے بھی شدید دباؤ ہے۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ رجسٹرڈ افغان مہاجرین جن کو نادرا کی طرف سے پی او آر کارڈ جاری کئے گئے ہیں ان کی تعداد پندرہ لاکھ ہے۔ ان مہاجرین کے قیام میں توسیع کے حوالے سے نئی قومی پالیسی تشکیل دی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ مہاجرین کے قیام کی گزشتہ توسیع وزیراعظم نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت دی تھی جو (آج) جمعرات 30جون کو ختم ہوجائے گی،ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہاہے کہ عالمی برادری کو افغان مہاجرین مہاجرین کی وطن واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے لئے پاکستان اور افغانستان کی مدد کرنی چاہیئے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد ساڑھے 6 کروڑ ہو چکی ہے، آج دنیا کے مختلف حصوں میں ریکارڈ 13 کروڑ افراد کو انسانی ہمدردی کی امداد کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو پاکستان کو مہاجرین کی طویل عرصہ میزبانی کوسراہنا چاہیے، مہاجرین کا مسئلہ حل کرنے کیلئے تنازعات کے حل کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ عالمی برادری افغان مہاجرین کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دے اور مہاجرین مہاجرین کی وطن واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے لئے پاکستان اور افغانستان کی مدد کرے۔