|

وقتِ اشاعت :   July 1 – 2016

کوئٹہ: احتساب عدالت کوئٹہ کے جج جناب عبدالمجید ناصر نے میگا کرپشن کیس میں گرفتار ٹھیکیدار سہیل مجید اورمحکمہ سی اینڈڈبلیو قلات کے ایکسئن طارق علی کی ریمانڈ میں 14روزہ توسیع کے احکامات دیدئیے جبکہ پبلک سروس کمیشن کے جعلی بھرتیوں اوردیگر کے الزام میں گرفتار ملزمان سابق چیئرمین ودیگر کے کیس میں ایک گواہ کا بیان قلم بند کروادیاگیا،گندم خردبردکیس میں ایک مرتبہ پھر سابق صوبائی وزیر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے گئے ۔گزشتہ روز ملزمان کو عدالت میں پیش کیاگیا تو نیب کے پراسیکیوٹرز ،تفتیشی ٹیم کے آفیسرا ن اورملزمان کے وکلاء بھی عدالت میں موجود تھے اس موقع پر عدالت کے جج نے ملزمان سے استفسار کیاکہ انہیں نیب کی حراست میں کسی قسم کا مسئلہ تو نہیں اس موقع پر تفتیشی ٹیم کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے توسط سے عدالت سے ملزمان کی جسمانی ریمانڈ میں 14روزہ توسیع کی درخواست گزاری جس پر عدالت نے ملزمان کی ریمانڈ میں 14روزہ توسیع کرتے ہوئے سماعت کو 15جولائی تک ملتوی کردی ۔عدالت نے خالق آباد کے اکاؤنٹنٹ کی جانب سے جوڈیشل کئے جانے سے متعلق دائردرخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔دریں اثناء گزشتہ روز پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین اشرف مگسی اور دیگر ملزمان کو بھی عدالت میں پیش کیاگیا اورگواہ نے اپنا بیان قلم بند کرادیا بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15جولائی تک کیلئے ملتوی کردی ۔نیب عدالت میں گندم خردبردکیس کی بھی سماعت ہوئی جس میں سابق صوبائی وزیر اسفندیار کاکڑ پیش نہیں ہوئے تاہم گرفتار سیکرٹری علی بخش بلوچ کو پیش کیاگیا اس موقع پر عدالت نے کیس میں نامزد سابق صوبائی خوراک اسفندیار کاکڑ نے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سماعت 18جولائی تک کیلئے ملتوی کردی ۔