کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی واپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بلوچ وپشتون قوم پرست صوبے کے وسائل لوٹ کر کے واپس اپنے پرانے مورچوں میں چلے جائینگے جمعیت علماء اسلام نے اس بات کی نشاند ہی پہلے بھی مختلف فورم پر کی تھی کہ یہ قوم پرست کبھی بھی پاکستان کے حامی نہیں بن سکتے اور نہ ہی پاکستان کو اپنا سر زمین سمجھتے ہیں جن قو توں نے ان قوم پرستوں کو اقتدار میں لانے کیلئے انتخابات کے دوران ٹھپے لگائے تھے وہ بھی اتنے ذمہ دارہے ان حالات جس طرح قوم پرست ان تمام تر حالات کے ذمہ دار ہے بلوچ پشتون قوم پرست اقتدار میں رہ کر اقتدار میں خوف لوٹ مار کر نے کے بعد اپنے آقاؤں کو خوش کر نے کیلئے پاکستان پر الزام تراشیاں کریں گے اور بارڈر کے تقدس کو پامال کر نے میں مصروف رہیں گے انہوں نے کہا کہ میاں محمد نوازشریف اور قوم پرست دونوں پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ایک گریٹر پنجاب اور دوسرے گریٹر پختونستان کے حامی ہے اس لئے ان دونوں کے مفادات مشترک ہے اور یہ کبھی بھی پاکستان کے حامی نہیں ہو سکتے ایسے حالات میں جہاں انڈیا افغان بارڈر پر پہنچ گئے اور دوسری طرف پاکستان پر امریکہ کی جانب سے دباؤ ہے ایسے حالات میں قوم پرستوں کو دشمنوں کے ساتھ وفاداری دیکھانا ملک کے ساتھ غداری ہے صوبے میں دہشتگردی کا نیا لہر قوم پرستوں کے منہ پر طمانچہ ہے بلوچ پشتون قوم پرستوں نے بلوچستان کے وسائل کا سودا کر دیا اور یہ کبھی بھی عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بن سکتے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے اور نہ ہی حقیقی نمائندے بن سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری کر دہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں قوم پرستوں کو اقتدار تو ملا لیکن عوام کے توقعا ت پر پورا نہیں اترے اور ہم نے ماضی میں بھی اس بارے صاف کہا تھا کہ بلوچ پشتون قوم پرست صرف اقتدار کر کے اپنے پرانے مورچوں کو چلے جائینگے جہاں سے ان کی ٹریننگ ہو تی ہے حالیہ بیانات سے یہ بات ظاہر ہو گیا ہے کہ جو خدشات جمعیت علماء اسلام پیش کئے تھے وہ آج درست ثابت ہو رہے ہیں عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر پورا نہیں اترے امن وامان ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں کمی نہیں آئی جس کی وجہ سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہے پولیس ، ایف سی اور دیگر اعلیٰ افسران کو مارا جا رہا ہے لیکن قوم پرستوں کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی عوام پر رحم وکرم پر نہیں ہے جس کی وجہ سے حالات دن بدن خراب ہو تے جا رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ جو لوگ اپنے پرانے مورچوں میں رہ کر اقتدار کر تے ہیں وہ کبھی بھی عوام کا خیر خواہ نہیں ہوتے اس لئے حکومت اور اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے لو گوں سے دور رہے جو ملک کے مفادات کی بجائے دوسروں کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔