|

وقتِ اشاعت :   July 3 – 2016

کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی کابینہ ،صوبائی پارلیمانی پارٹی ،مرکزی عہدیداران ،کوئٹہ ،پشین ،قلعہ عبداللہ کے اضلاع کے صدور ،سیکرٹریز کامشترکہ اجلاس ارباب ہاؤس میں زیر صدارت صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی منعقد ہوا اجلاس میں ملکی گیر یقینی صورتحال ،صوبے کی سیاسی ،معاشی ،امن وامان کی گھمبیر اورناگفتہ بہ حالات اورتنظیمی امور سے متعلق غور وحوض ہوا اجلاس میں ملکی ،سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاگیاکہ ملک اس وقت نازک صورتحال سے گزررہی ہے خطے کے بدلتے ہوئے حالات ،ہمسایہ ممالک کیساتھ سرحدات پر تناؤ سی کیفیت بالخصوص پاک افغان سرحدی امور طور خم پر رونما ہونے والاواقعہ ،ملک کے اندر عدم تحفظ ،خلفشار ،پانامہ اور خزانہ لیکس جیسے میگا کرپشن کے سکینڈل ،چھوٹی قومیتوں میں احساس بیگانگی ومحرومی اپنے انتہاء کو چھو رہی ہے ،وزیراعظم کے بغیر ملکی امور کس قانون کے تحت کون چلارہاہے کسی کو کچھ پتہ نہیں پانامہ لیکس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج سے کوئی اور فائدہ اٹھانے کی تاک میں ہے جوکسی طور پر بھی ملک وقوم کے فائدے میں نہیں ،اجلاس میں پاک چائنا اکنامک کوریڈور پر اس کے اصل روح کے مطابق عملدرآمد نہ کرنے اور اس اہم منصوبے کو پنجاب ،چائنا اکنامک کوریڈور میں تبدیل کرنے سے چھوٹی قومیتوں پشتون بلوچ اقوام میں احساس بیگانگی اوراحساس محرومی پیدا ہونا طفری امر ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری وفاق کے نام پر تخت لاہور ،پنجاب کے اشرافیہ پر عائد ہوگی ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے کے بجائے حکمران اور بالادست طبقات پرانی روش پر عمل پیرا ہیں اجلاس میں صوبے میں امن وامان کی خراب صورتحال ،ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان ،عدم شفافیت ،اقرباء پروری ،بجلی کی ناروا اورغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ،مہنگائی ،منافع خوری ،نادرا اور پاسپورٹ حکام کی پشتونوں کیساتھ توہین آمیز رویہ ،قومی شاہراہوں پر پشتونوں کیساتھ پولیس ودیگر سیکورٹی اداروں کی ناشائستہ رویہ سمگلنگ کے نام پر پشتونوں پر روزگار کے دروازے بند کرنے ،غیر متوازن بجٹ کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاگیاکہ صوبے بھر میں ٹارگٹ کلنگ ،اغواء برائے تاوان جیسے مکروہ دہندہ اپنے عروج پر ہیں ،آئے روز بے گنا ہ افراد تاوان کی غرض سے اغواء کئے جاتے ہیں اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ سیکورٹی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے ۔ایک ہفتے کے دوران صوبائی دارالحکومت میں دو درجن سیکورٹی اہلکار اور نہتے شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سٹریٹ کرائمز اس کے علاوہ ہے ،اجلاس میں غیر متواز عوام دشمن بجٹ غیر منتخب قوتوں سے تیار کروانے سے پہلے سے موجود خدشات درست ثابت ہوگئے کہ 2013کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی مخلوط حکومت حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی مینڈیٹ تھا آج برسراقتدار جماعتوں کی چھپ سادھ اور بے بسی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں اجلاس میں صوبے بھر بالخصوص پشتون بیلٹ میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے اسے پشتونوں کے معاشی قتل سے تعبیر کیا ایسے وقت میں جب باغا اور فصلات کو پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے 18سے 2گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ صوبے کی واحد ذریعہ معاش زراعت کوتباہی سے دوچار اور زمینداران کو نان شبینہ کامحتاج بنادیاگیا ،اجلاس میں نادرا ،پاسپورٹ حکام کی پشتونوں کیساتھ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اجزاء میں غیر ضروری شرائط اور امتیایزی سلوک کی مذمت کرتے ہوئیے کہاگیاکہ پورے ملک میں شناختی کارڈز ،پاسپورٹ کیلئے ایک اصول اورطریقہ کارجبکہ پشتونوں کیلئے دوسرا معیار ،یہ طرز عمل سمجھ سے بالا تر اورناقابل قبول ہیں ،غیر ملکیوں کی آڑ میں صرف پشتونوں کیساتھ جانبدارانہ رویہ اپنانازیادتی ہے اور تمام غیر ملکیوں کیساتھ اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے مطابق مسلمہ اصول کے تحت سلوک کیاجائے وہ چاہئے کسی نسل ،مذہب ،فرقے یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ عید کے ساتھیوں روز12جوالائی بروز منگل صبح9بجے پشین بازار میں امن وامان کی گھمبیر صورتحال ،ٹارگٹ کلنگ ،اغواء برائے تاوان ،سی پیک مغربی روٹس پر عملدرآمد نہ کرنے ،حکومت کی میگا کرپشن ،قبضہ گیری ،اقرباء پروری ،واپڈا کی ناروا لوڈشیڈنگ ،نادرا اورپاسپورٹ حکام کے نامناسب رویے کیخلاف عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیاجائیگا جیسے پارٹی کے مرکزی ،صوبائی وضلعی قائدین خطاب کریں گے جلسے کی انتظامات کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں۔