کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی دفتر با چا خان مرکز سے جاری کر دہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امن وامان کی مخدوش صورتحال، اغواء برائے تاوا، ٹارگٹ کلنگ، بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ، سی پیک مغربی روٹ پر عملدرآمد نہ کر نے صوبے میں جاری حکمرانوں کی میگا کرپشن ، نادرا اور پاسپورٹ حکام کی من ما نیوں ، قومی شاہراہوں پر پشتونوں کی تضحیک وتوہین اور سمگلنگ کی نام پر پشتونوں پر حیات زندگی تنگ کر نے کے خلاف12 جولائی پشین بازار میں جلسہ عام سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں اور اس میں شامل جماعتیں عوام کے جان ومال کو تحفظ دینے میں یکسر ناکام ہو چکے ہیں جو بلند وبانگ دعوے انتخابات کے دوران عوام سے کئے گئے تھے اور ایک بھی وفا نہ ہو سکا عوام الناس تمام تر سہولیات زندگی سے محروم ہو تے چلے جا رہے ہیں آج بھی نہ پینے کو پانی میسر ہے اور نہ ہی بجلی کی سہولیات تعلیم صحت کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھایا جا سکا صوبے کے تمام سرکاری ہسپتال اور تعلیمی ادارے کھنڈرات میں تبدیل کا منظر پیش کر رہا ہے جبکہ قومی اجتماعی معاشی حقوق سے مکمل پسپائی اختیار کی گئی سی پیک مغربی روٹ پر عملدرآمد نہ کرنے میں وفاقی حکومت اس کے اتحادی اور صوبائی حکومت اس کے برابر شریک ہے صوبائی حکومت میں شامل جماعتیں گروہی ، ذاتی وسیاسی مفادات کے حصول میں مگن ہو کر قومی اہمیت کے حامل منصوبوں پر چپ سادھ لی ہوئی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے اور پشتون بیلٹ کی واحد ذریعہ معاش زراعت کو منظم منصوبہ بندی کے تحت تباہی سے دوچار کیا فصلات اور باغات کو پانی کی اشد ضرورت کے وقت بجلی کی شارٹ فعال بڑھا دی جا تی ہے جس سے زمینداروں کو سالہ سال محنت ضیائع ہو جاتی ہے جبکہ دوسری جانب سمگلنگ کے نام پر پشتونوں پر روزگار کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں قومی شاہراہوں پر پشتونوں کیلئے سفر محال کر دیا جبکہ نادرا اور پاسپورٹ حکام شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے انکاری ہے لہٰذا اس گھمبیر اور مایوس کن صورتحال میں عوامی نیشنل پارٹی ایک ذمہ دار قومی سیاسی جمہوری جماعت اور پشتون قومی تحریک کے تسلسل کے حیثیت اپنی تاریخی ذمہ داری بخوبی احسن سرانجام دے رہی ہے 12 جولائی کو پشین میں ہونیوالے جلسے عام کو کامیاب بنا نے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی اور جلسے سے پارٹی کے مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کرینگے۔