|

وقتِ اشاعت :   July 11 – 2016

چمن : کوئٹہ چمن قومی شاہراہ پر ایک بار پھر سے ایف سی اور کسٹم کی پرانی چیک پوسٹیں بحال اور نئی چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہے شیلاباغ کے مقام پر کسٹم اور ایف سی نے ایک دوسرے کے آمنے سامنے متوازی چیک پوسٹیں مسافروں کے چیکنگ کے بہانیقائم کر کے انھیں ازیت میں مبتلا کر دیا ہے 2007 میں سپریم کورٹ نے شیلاباغ کے مقام سے ایف سی کی چیک پوسٹ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ چمن میں انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ ان چیک پوسٹوں کی بحالی کیلئے کسی قسم کے احکامات نہیں دیے گئے ہیں اس اہم شاہراہ پر چیک پوسٹوں کی روایت بہت پرانی تھی جب اسمگلنگ زوروں پر تھی مگر پانچ سال قبل پارلیمانی کمیٹی کے حکم پر چمن اور کوئٹہ کے درمیان غیر ضروری چیک پوسٹیں ہٹا دی گئیں تھی جبکہ صوبائی حکومت نے سید حمیدکراس پر قائم چیک پوسٹ کو پانچ سال قبل فضول اور عوام کی راہ میں رکاوٹ قرار دے کر ختم کر دیا تھا مگر چیک پوسٹوں کے قیام کی روایت پھر سے زندہ ہونے لگی ہے چمن سے کوئٹہ جاتے ہوئے چمن تحصیل ہی کے حدود میں درہ کوژک کے دامن میں کوئٹہ چمن روڈ پر گڑنگ کی ایف سی چیک پوسٹ پہلے ہی سے قائم تھی کہ اب کسٹم نے بھی ساتھ ہی چیک پوسٹ لگا دی چمن ہی کے حدود میں شیلاباغ کے مقام پر کسٹم نے کچھ عرصہ قبل چیک پوسٹ قائم کی تو چند ہی روز بعد ایف سی نے بھی کسٹم کے ساتھ شیلاباغ کی پرانی چیک پوسٹ بحال کر دیا نہ صرف یہ بلکہ چمن ہی کے حدود میں ایف سی نے شیلاباغ سے چند فرلانگ پر ژڑہ بند کے مقام پر پانچواں چیک پوسٹ بھی قائم کر دیا ہے چمن کے حدود میں تقریبا 15 کلومیٹر کے اندر ایف سی اور کسٹم کی پانچ پوسٹوں کے درمیان لیویز کی بھی اپنی الگ پوسٹیں پہلے سے قائم ہے اسی طرح کوئٹہ چمن شاہراہ پر ایف سی کی سید حمید کراس چیک پوسٹ کو بھی بحال کر کے باقاعدہ چیکنگ شروع کر دیا گیا ہے ان چیک پوسٹوں کے علاوہ اس شاہراہ پر ایف سی اور کسٹم کی الگ سے پیٹرولنگ کا سلسلہ بھی دن رات چلتا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹیں عوام کے تحفظ یا جرائم پیشہ افراد کے خلاف نہیں بلکہ اسمگلنگ کے مال کی روک تھام کیلئے بنائی گئی ہے حالانکہ آن لائن کو چمن چیمبر آف کامرس اور انجمن تاجران کے عہدیداران نے بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ہی سے اسمگلنگ ہوا کرتا ہے جو کہ اب یہ ٹرانزٹ ایران کے بندرگاہ چاہ بہار پر نہ صرف اس کا نصف فیصد منتقل ہو چکا ہے بلکہ مزید بھی یہاں سے منتقل ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ پاکستانی اداروں کی ناقص کارکردگی اور اعتماد کھو بیٹھنے کے باعث پاکستان کو بھاری ٹیکس سے محروم ھونا پڑا دوسری جانب افغانستان سے منسلک پاکستان کی غیرروایتی راستے پہلے ہی بند کر دئے گئے ہے چیک پوسٹوں کے قیام سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہے اور دو گھنٹوں کا سفر چار گھنٹوں میں طے کیا جاتا ہے عام مسافر گاڑیوں کو چیکنگ کے بہانے مزید عوام کو خوار کیا جا رہا ہے عوام نے سوال کیا ہے کہ کیا سرحد سیل کرنے کے بجائے اس اہم قومی شاہراہ پر ہی چیک پوسٹ کے اگے چیک پوسٹ قائم کرنے سے ہی اسمگلنگ کا روک تھام ممکن ہے۔