کوئٹہ : احتساب عدالت کوئٹہ کے جج جناب عبدالمجید ناصر نے بلوچستان میگا کرپشن کیس میں نامزد سابق مشیر خزانہ بلوچستان میر خالد لانگو کی ریمانڈ میں مزید14روز توسیع کے احکامات دے دئیے ۔گزشتہ روز بلوچستان میگا کرپشن کیس میں نامزد سابق مشیر خزانہ بلوچستان میر خالد لانگو کو سخت سیکورٹی میں احتساب عدالت کوئٹہ میں پیش کیاگیا عدالت میں سماعت کے موقع پر نیب کے تفیشی آفیسر نے جج کو بتایا کہ دوران تفتیش ملز م کے48اکاونٹس کا انکشاف ہوا ہے جس میں لو پیڈ ملازمین کے نام پر رقم جمع کرائی جاتی رہی ہے ۔تفتیشی آفیسر نے اکانٹس کی فہرست عدالت میں پیش کر دی ۔ عدالت نے حکم دیا کہ اب تک کارروائی میں جو پیش رفت ہوئی ہے اس سے آگاہ کیا جائے ۔ اس موقع پر مشیر خزانہ خالد لانگو کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کا شہری ہے جو نیب کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کر رہا ہے ۔ ڈی جی نیب سے ملاقات کی درخواست کی تاہم وہ نہیں ملے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم کا تعلق ڈی جی نیب سے نہیں بلکہ تفتیشی آفیسر سے ہوتا ہے ۔خالد لانگو کے وکیل نے اپنے موکل کو جوڈیشل کرنے کی درخواست کی ۔ تاہم عدالت کا موقف تھا کی نیب کو انکوائری مکمل کرنے دی جائے جس کے بعد احتساب عدالت نے خالد لانگو کو مزید 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ۔ سابق مشیر خزانہ کو 27 جولائی دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا ، پیشی کے بعد جب خالد لانگو کی بکتر بند گاڑی عدالت کے احاطے سے نکلی تو خالد لانگو کے ووٹرز نے گاڑی کو روک لیا اور خالد لانگو کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں نیب کے آفس تک پہنچایا ۔میگا کرپشن کیس میں گرفتار خالد لانگو کو 26 مئی کو پہلی بار 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا گیا جس کے بعد 8 جون ،21 جون، 4 جولائی کو عدالت سے 14 روزہ ریمانڈ حاصل کیا گیا اور اب ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع کی گئی ہے۔میر خالد لانگو کی عدالت میں پیشی کے موقع پر لانگو قبیلے کے سیکڑوں افراد احاطے عدالت کے باہر موجود تھے جس میں صوبائی وزیر اسلم بزنجو اور سینیٹر میر کبیر محمد بھی شامل تھے۔عدالت میں سیکورٹی کو کنڑول کرنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔دریں اثناء لانگو قبائل کی جانب سے میر خالد لانگو کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین کاکہناتھاکہ میر خالد لانگو محب الوطن پاکستانی ہے جس نے عوام کی ترقی کیلئے بے شمار کام کئے لیکن انہیں نیب حکام نے سیکرٹری خزانہ کی گرفتاری کے بعد اس وقت گرفتار کیا جب وہ انہیں ہر ممکن تعاون کا بھی یقین دلا چکے تھے یہ طریقہ کار غلط اور نامناسب ہے کیونکہ میر خالد لانگو کو عوام نے مینڈیٹ دیکر جمہوری طریقے سے منتخب کیا اب انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے جو ہمیں قابل قبول نہیں انہوں نے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر میر خالد لانگو کو رہاکیاجائے کیونکہ میگا کرپشن کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں وہ خود کہہ چکے ہیں کہ مذکورہ کیس سے اس کا تعلق نہیں تاہم انہیں اس سلسلے میں معلوم نہ ہونا ان کی نااہلی اور سستی ہے انہوں نے کہاکہ کیس کی تفتیش کیلئے خالد لانگو ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے لہٰذا انہیں حراست میں رکھنے کا نیب کی جانب سے کوئی جواز نہیں اس لئے انہیں رہا کیاجائے تاکہ وہ عوامی خدمت کے منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے احکامات دے سکے اس موقع پر مظاہرین کے شرکاء نے خالد لانگو کے حق میں نعرے بازی کی مظاہرے کی قیادت منیر بلوچ ودیگر کررہے تھے ۔