کوئٹہ: گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ زرعی یونیورسٹی سائنسی تحقیق و تخلیق کا مرکز ہونے کے علاوہ زرعی خوشحالی اور مستقبل کی تعمیر وترقی سے متعلق کلیدی اہمیت کا حامل ادارہ ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کی درست خطوط پر تعلیم اورتربیت کے علاوہ ان کا بہتر مستقبل بھی اس سے وابستہ ہے ۔لہذا زرعی یونیورسٹی کی تعمیر کی درست منصوبہ بندی ضروری ہے۔ انہوں متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر زرعی یونیورسٹی کی تعمیر کا کام فوری طور پر بند کرکے اس کی فزیبلٹی رپورٹ کا ایک ہفتے کے اندر اندر ازسر نوجائز لیں اور ضرورت کے مطابق یونیورسٹی کیلئے وسیع قطعہ اراضی حاصل کرنے اور قابل عمل منصوبہ تیار کرنے پر توجہ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی ائیر پورٹ روڈ نزد بلیلی سے متعلق دی گئی ایک بریفنگ کے دوران کیا۔صوبائی سیکرٹری زراعت عبدالرحمن بزدار نے گورنر بلوچستان کو زرعی یونیورسٹی کے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات داؤد محمد بڑیچ ، صوبائی سیکرٹری ریونیو ،پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر عبدالجبار اور پرنسپل ایگریکلچر کالج محمد اسلم نیازی بھی موجود تھے۔ گورنر کو بتایا گیا کہ کالج کی موجودہ صرف 35ایکڑ پر مشتمل عمار ت کو ہی وسعت دیکر زرعی یونیورسٹی بنانے کا منصوبہ ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ کوئٹہ ایئر پورٹ سے متصل اور برساتی نالے کے کنارے واقع اراضی پہلے ہی زرعی کالج کے قیام کے لئے موزوں نہیں تھی جبکہ اب اسی زمین پر ہی زرعی یونیورسٹی تعمیر کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ بنیادی طور پر زرعی معیشت کا حامل ہے اور زراعت کو ترقی دیکر ہی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر کے اور زراعت کے مختلف شعبوں میں جدید تحقیق سے استفادہ کر کے ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے روشن مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کے قیام کیلئے جوزمین مختص کی گئی تھی اس پر مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے لہذا مقدمے کا فیصلہ آنے تک زرعی یونیورسٹی کی تعمیر کا کام روک دیا جائے۔ اگر عدالت کا فیصلہ ہمارے حق میں آیا تو زرعی یونیورسٹی کی تعمیر مختص کردہ زمین پر کی جائیگی بصورت دیگر مناسب قطعہ اراضی خرید کر زرعی یونیو رسٹی کی تعمیر کا کام شروع کیا جائیگا۔ اس طرح صوبائی بجٹ کو ہونے والے نقصان سے بھی بچایا جاسکتاہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی میں تحقیقی کام اورعملی تجربوں کیلئے وسیع اراضی درکار ہوتی ہے جسے کم از کم ایک ہزار ایکڑ ہونا چاہیے۔ گورنر نے کہا کہ ہماری معیشت کا مستقبل زراعت سے وابستہ ہے اور ہمیں زراعت کی ترقی ، زمین کی زرخیزی اور پیداواریت میں اضافے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اورتحقیق کے لئے تمام ضروری ذرائع پر توجہ دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیدا ہونے والے مختلف تازہ اور خشک پھلوں، پھولوں ، سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کو ملک بھر میں منفرد مقام حاصل ہے لہذا ان پر تحقیق کے شعبے میں زیادہ کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس ضمن میں بلوچستان کے ماہرین اور محققین پر مبنی اپنے تحقیقی ادارے قائم کیے جانے چاہیے ۔ گورنر بلوچستان نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ آفیسران کی استعداد کار کو بہتر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کو جانچنے اور پرکھنے کیلئے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات میں ایک ونگ /سیلمنظم کیا جائے جو پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ حکومت کے دیگر محکموں کے آفیسران کو بھی ضروری تربیت فراہم کرے ۔انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے نیشنل پلاننگ کمیشن اور ورلڈ بینک سے تعاون حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔