|

وقتِ اشاعت :   July 15 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں کامیاب سیمینار کا انعقاد پر دانشوروں ‘ صحافیوں ‘ وکلاء ‘ انسانی حقوق کے تنظیموں کے اکابرین سے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیمینار کی کامیابی اور قراردادوں کی منظوری خوش آئند ہے پارٹی بلوچستان کے قومی اجتماعی مفادات کی ترجمانی قومی جماعت ہے اس سے قبل بھی پارٹی نے گوادر کے حوالے سے کامیاب اے پی سی منعقد کرائی اور بھی سی پیک کے حوالے سے سیمینار میں گوادر کے بلوچوں کے اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا پارٹی کسی بھی حقیقی ترقی و خوشحالی کی مخالف نہیں لیکن اصولی موقف اور عوام کو درپیش مسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بلوچوں کے وسیع تر مفادات کی حفاظت کیلئے مختلف فورمز پر اپنے سائل وسائل کے دفاع اجتماعی قومی مفادات کیلئے قومی و جمہوری انداز میں جدوجہد کی ہے پاک چائنا اقتصادی راہداری کے حوالے سے سیمینار جس کا موضوع ترقی یا استحصال تھا جس پر پارٹی نے اپنے اصولی موقف کو اجاگر کیا سیمینار کی صدارت پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے کی اس کی کامیابی پر طبقہ فکر مبارکباد کے مستحق ہے جنہوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی جس میں درج ذیل قراردادیں منظور کی گئیں ترقی و خوشحالی کا نام نہاد دعوؤں کی بنیاد پر بلوچستان کے عوام کا سیاسی و معاشی استحصال کا سلسلہ بند کیا جائے ‘ گوادر پورٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے صوبوں کے ساحل وسائل پر اختیارو حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے ‘ گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے تاکہ دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو شناختی کارڈز ‘ لوکل جاری نہ ہو سکے انتخابی فہرستوں میں ان کے ناموں کا اندراج نہ ہو سکے سی پیک کے ابتداء ہی سے گوادر کے عوام کو فوری طور پر صاف پانی ‘ انفراسٹرکچر ‘ ہسپتال فراہم کی جائے ٹریننگ سینٹر اور میرین یونیورسٹی تعمیر کر کے مقام لوگوں کو ٹریننگ دی جائے گوادر پورٹ اور میگا پروجیکٹ کے تمام ملازمتوں کو گوادر ‘ مکران اور بلوچستان کے باشندوں کو ترجیح دی جائے ‘ ماہی گیروں کو معاشی استحصال سے بچانے کیلئے متبادل روزگار اور جی ٹی کا بندوبست کیا جائے اور موجودہ جی ٹی کو وسعت دی جائے ‘ تاپی ‘ آئی پی ‘ ایل این جی پائپ لائن جس صوبے سے گزرے اس صوبے کے حق کو تسلیم کیا جائے گوادر کے مقامی لوگوں پر عائد کردہ غیر قانونی پابندیوں کو ختم کر کے نقل و حرکت پر مکمل آزادی دی جائے ‘ بیرونی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں گوادر کے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات ‘ بیرون اور اندرون ملک ٹریننگ دیں اسکاپرشپ دی جائے مقامی عوام کے پسماندگی کی خاتمے کیلئے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یوٹیلیٹی بلز اور ٹیکس کی مد میں 30سالوں تک چھوٹ دی جائے گوادر کے مقامی لوگوں کو جدی پشتی زمینوں سے بے دخل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ زمین اصل مالکان کے حوالے کیا جائے یا انہیں معاوضہ دیا جائے جو پنجاب میں جزوی زمینوں کو دی جاتی ہے گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے شراکت داری کو یقینی بنانے کے حوالے سے نیشنل اسمبلی میں قانون سازی کی جائے ‘گوادر کے تاریخی شہر کو منتقل کرنے کی بجائے پرانے شہر کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جائے ‘ سی پیک روٹ کے محصولات کا اختیار صوبوں کو دیا جائے ‘ اسپیشل سیکورٹی ڈویژن کا مکمل صوبوں کو دے کر مقامی باشندوں کو اولین ترجیح دے کر بھرتی کیا جائے ‘ سیکورٹی کی آڑ میں عوام کی تزلیل کا سلسلہ بند کیا جائے بلوچستان میں میڈیا پابند ہے آزاد صحافیوں کو غیر اعلانیہ سنسر شپ کا سامنا ہے ٹی وی چینلز پر بلوچستان کے بارے میں سچ بولنا جرم ہے آدھے سے زیادہ علاقہ میڈیا کیلئے نو گو ایریا بن چکا ہے میڈیا کو بلوچستان بھر میں جانے کی اجازت دی جائے بلوچستان میں صحافیوں کے خلاف مقدمات واپس لے کر کارروائیوں بند کی جائیں درج بالا قراردادیں ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پیش کیں جن کی شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر منظوری دی ۔