امریکی صدر براک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے ترکی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد اور خونریزی سے گریز کی اپیل کی ہے۔
ترکی میں فوج کے باغی ٹولے کی جانب سے بغاوت کے بعد دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں نے ترکی میں فوجی بغاوت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے بیان میں ترکی کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ منتخب جمہوری حکومت کاساتھ دیں تاہم تشدد اور خونریزی سے گریز کیا جائے۔
امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے ترک ہم منصب کو فون کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ترکی میں منتخب جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور امید ہے کہ ترکی امن و استحکام برقرار رکھتے ہوئے موجودہ بحران پر قابو پالے گا۔ برطانوی وزارت خارجہ نے ترکی میں ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جب کہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ ترکی میں خون خرابہ نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی وزیرخارجہ جاوید ظریف نے کہا کہ ترکی کی صورتحال تشویشناک ہے تاہم جمہوریت، ترکی کا امن اور ترک عوام کی حفاظت انتہائی اہم ہے۔