|

وقتِ اشاعت :   July 20 – 2016

کراچی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ نے بازیابی کے بعد پہلی مرتبہ اپنا بیان قلمبند کرادیا۔ اویس شاہ اغوا کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی سلطان خواجہ اور منیر شیخ نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے سے تفصیلی ملاقات کی اور ان کا بیان قلمبند کیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کو اویس شاہ نے بتایا کہ اغوا کار پشتو زبان میں گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے کراچی سے نکلنے کی  کوشش کی  لیکن سخت سیکیورٹی کی وجہ سے ان کی یہ کوشش 2 مرتبہ  بے سود ثابت ہوئی۔ اویس شاہ نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ ملزمان نے انہیں ایک کمرے میں بند رکھا تھا جس میں صرف ایک پنکھا چلنے کی آواز آتی تھی اور جس کمرے میں رکھا گیا تھا وہاں لگتا تھا کہ کئی ملزمان موجود تھے تاہم اغوا کاروں نے کبھی تشدد نہیں کیا لیکن ہر وقت آنکھوں پر پٹی بندھی رہتی تھی۔ ذرائع کے مطابق دونوں ڈی آئی جیز نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو اویس شاہ کے بیان سے آگاہ کردیا جس کے بعد اویس شاہ اغوا سے متعلق تفصیلی رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔